پاکستان تازہ ترین

اب کوئی رعایت نہیں! غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائی میں تیزی، بڑے اقدامات جاری

اب کوئی رعایت نہیں! غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائی میں تیزی، بڑے اقدامات جاری

حکومت نے ملک میں غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق دستاویزات نہ رکھنے والے اور غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کے مستقبل سے متعلق بھی نئی پالیسی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور دستاویزات کی جانچ کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ سخت کرنے اور غیر قانونی داخلے کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے پاک افغان طورخم بارڈر کو جزوی طور پر کھولنے کی منظوری دے دی ہے۔ پولیس اور حکومتی ذرائع کے مطابق بارڈر صرف مخصوص قافلوں کے لیے کھولا جائے گا اور عام آمد و رفت بدستور بند رہے گی۔

ذرائع کے مطابق واپسی کا عمل تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں جیلوں میں قید افغان شہریوں کو واپس بھیجا جائے گا، جن کی تعداد 2200 سے زائد بتائی جاتی ہے۔ محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق پشاور سینٹرل جیل میں ایک ہزار سے زائد جبکہ کوہاٹ اور ہری پور کی جیلوں میں تقریباً 1200 افغان قیدی موجود ہیں۔

دوسرے مرحلے میں مہاجر کیمپوں میں مقیم افغان باشندوں کو واپس بھیجا جائے گا، جبکہ تیسرے مرحلے میں صوبے کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو وطن واپس روانہ کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں قیدیوں کو ناصر باغ کیمپ منتقل کیا جائے گا، جہاں رجسٹریشن کے بعد انہیں قافلوں کی صورت میں طورخم بارڈر کے راستے افغانستان روانہ کیا جائے گا۔ اس دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور خیبر پولیس جمرود سے طورخم تک قافلوں کو مکمل سکیورٹی فراہم کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اہل خانہ کی آمد اور سکیورٹی خدشات کے باعث حکومت نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی سے جیلوں پر دباؤ کم ہوگا، اخراجات میں کمی آئے گی اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

طورخم بارڈر کے قریب قائم ہولڈنگ کیمپ میں بھی تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ عملے کی تعیناتی اور دیگر تیاریاں جاری ہیں۔ تاہم بارڈر کھولنے سے متعلق حتمی احکامات کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ افغان مہاجرین کے قافلے جلد روانہ ہونا شروع ہو جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام عمل باعزت اور منظم طریقے سے مکمل کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بد نظمی سے بچا جا سکے

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image