تہران :خلیج کے پانیوں میں متعدد بحری جہازوں پر حملوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے قریب خلیجی پانیوں میں کم از کم چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو آئل ٹینکروں میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور ایک غیر ملکی عملے کے رکن کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
رپورٹس کے مطابق نشانہ بننے والے جہازوں میں مارشل آئی لینڈ کے جھنڈے تلے چلنے والے آئل ٹینکر ’سیف سی وشنو‘ اور ’زیفیروز‘ شامل ہیں، جو عراق سے ایندھن لے کر روانہ ہوئے تھے۔ عراقی بندرگاہ حکام کے مطابق حملے کے بعد دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی جبکہ امدادی ٹیموں نے متعدد عملے کے ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ملک کے آئل ٹرمینلز کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، تاہم تجارتی بندرگاہیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
ادھر اطلاعات ہیں کہ حملوں میں دھماکہ خیز مواد سے لیس بغیر عملے کی کشتیوں اور سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔اسی دوران مختلف ممالک کے کئی جہازوں پر بھی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ تھائی لینڈ کے کارگو جہازکو دو نامعلوم میزائل نما اشیاء نے نشانہ بنایا جس سے جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی جبکہ تین عملے کے ارکان لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔
اسی طرح جاپانی کمپنی کے کنٹینر جہاز ’ون مجیسٹی‘ اور ایک اور بحری جہاز ’اسٹار گینتھ‘ کو بھی نامعلوم پروجیکٹائل سے نقصان پہنچا، تاہم ان کے عملے کے ارکان محفوظ رہے۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق عالمی شپنگ کمپنیوں کی درخواستوں کے باوجود امریکی نیوی نے ابھی تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فوجی سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج میں حالیہ حملوں کے بعد عالمی تیل سپلائی اور سمندری تجارت کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں کیونکہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس اسی اہم گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
تازہ ترین
آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر ، ڈرون بوٹس اور بارودی سرنگوں سے جہازوں پر حملے
- by web_desk
- مارچ 12, 2026
- 0 Comments
- 10 Views
- 2 گھنٹے ago

Leave feedback about this