اسلام آباد (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کے عوام گزشتہ 78برس سے بھارتی جبر واستبداد کا شکار ہیں ، کشمیری بھارتی قبضے میں جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی فورسز کے ہاتھوں مسلسل غیر قتل وغارت، بلاجواز گرفتاریوں اور دیگر چیرہ دستوں نے کشمیریوں کو ذہنی صحت کے لحاظ سے بھی سخت متاثر کیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے ایک آزاد تحقیقی ادارے ”کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز “(کے آئی آئی آر) نے اپنی ایک رپورٹ میں کشمیری عوام کی ذہنی صحت کو تباہ کرنے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارتی فورسز نے 1لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید جبکہ 8ہزار سے زائد کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیر کو طویل کرفیو اور انٹرنیٹ بندش کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل پابندیوں ، مواصلات کی بند ش نے لوگوں کی صحت بری طرح متاثر کی۔ رپورٹ میں لوگوں کی ذہنی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیاکہ ایک مطالعہ کے مطابق 45 فیصد بالغ افراد سمیت تقریباً 1.8 ملین لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔ان میں سے 41 فیصد ڈپریشن،26فیصد اضطراب ، جبکہ 19فیصدپوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس ڈس آرڈر( پی ٹی ایس ڈی) کا شکار ہیں۔ تقریباً 47 فیصد بالغ افراد تکلیف دہ واقعات سے دوچار ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مابق 1994 اور 2012 کے درمیان خودکشی کی کوششوں میں 250 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ دماغی صحت کے مسئلے سے دوچار صرف 10 فیصد مریض علاج و معالجہ کرتے ہیں۔
2011 کی مردم شماری میں جموں اور کشمیر کی آبادی 12.5 ملین ریکارڈ کی گئی جبکہ خطے میں صرف 41 ماہر نفسیات ہیں اور وہ بھی صرف سرینگر اور جموں میں۔کے آئی آئی آر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں 61 فیصد خواتین تولیدی مسائل سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جون 2010میں شہید ہونے والے 15سالہ اشتیاق احمد کھانڈے کی والدہ جمیلہ بانو کو بھی ڈپریشن اور پی ٹی ایس ڈی کی تشخیص ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے کو مکمل طور پر ایک بڑی جیل میں تبدیل کررکھا ہے اور طویل بھارتی جبر نے کشمیریوں کی ذہنی صحت بھی سخت متاثر کی ہے۔

Leave feedback about this