ممتاز قوال امجد صابری کے صاحبزادے مجدد امجد صابری نے فرانس میں پیش آنے والے ایک غیر معمولی واقعے کا ذکر کر کے سب کو چونکا دیا۔
جہاں ان کے والد کی روح پرور قوالی نے تقریباً 400 حاضرین کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیا، حالانکہ وہ الفاظ کا مطلب سمجھ نہیں پا رہے تھے۔
مجدد امجد صابری کے مطابق ان کے والد امجد صابری فرانس میں ایک تقریب میں قوالی پیش کر رہے تھے، ایک لمحے میں امجد صابری نے اپنا مشہور کلام پڑھا کہ یا محمد نورِ مجسم، یا حبیبی یا مولائی۔
نجی ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کے دوران مجدد نے بتایا کہ پرفارمنس کے بعد ایک گروپ فرانس کے شرکاء، جو مترجم کے ہمراہ تھے، اسٹیج کے پیچھے آئے اور بتایا کہ اگرچہ وہ الفاظ کا مطلب نہیں سمجھ سکے، مگر پیغمبر محمد ﷺ کے نام نے انہیں بے حد سکون اور راحت دی ہے۔
اس بات سے متاثر ہو کر امجد صابری نے انہیں اسلام کا پیغام دیا اور تقریب کے اختتام تک تقریباً 400 سے 500 افراد نے اسلام قبول کیا اور کلمہ پڑھا۔
واضح رہے کہ امجد صابری ایک معروف پاکستانی قوال تھے جنہیں 22 جون 2016ء کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں قاتلانہ حملے میں شہید کر دیا گیا تھا۔
وہ پاکستان کے مشہور صابری برادران کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
ان کے والد مرحوم حاجی غلام فرید صابری اور چچا حاجی مقبول احمد صابری تھے۔
امجد صابری نوجوانوں میں قوالی کی موسیقی کو مقبول بنانے کے لیے بھی مشہور تھے۔

Leave feedback about this