امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے مزید گہرے ہو گئے ہیں، دنیا کا سب سے بڑا امریکی جنگی بحری جہاز جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم پہنچ گیا ہے، جبکہ اس کی جبرالٹر میں نقل و حرکت کی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جیرالڈ فورڈ اس وقت بحیرہ روم میں موجود ہے اور اس پر درجنوں جدید لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر تعینات ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبرالٹر کے قریب اس کی سرگرمیوں کی ویڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد خطے میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ادھر امریکی بحری بیڑا ابراہم لنکن بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہے، جس سے خطے میں امریکی عسکری موجودگی مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں مجموعی طور پر 13 امریکی جنگی بحری جہاز تعینات ہیں، جن میں 9 ڈیسٹرائر اور 3 ساحلی لڑاکا جہاز بھی شامل ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی عسکری نقل و حرکت خطے میں ممکنہ کشیدگی کے پیشِ نظر کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پرتگال کے جزیرے تریسیرا پر واقع امریکی لاجیس ایئربیس امریکی لاجیس ائربیس پر بھی امریکی فوجی طیاروں کی آمد و رفت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری حکمتِ عملی کو مزید فعال بنا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود حملوں پر غور کرنے کا کہا تھا اور ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 12 روز کی ڈیڈلائن دی تھی، جس کے بعد پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے۔
