عمان میں امریکہ ایران مذاکرات شروع ہو گئے۔
عمان: عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کو دور کرنا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق عمان میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شرکت کی، جو مذاکرات کے لیے مسقط گئے تھے۔ امریکہ کی طرف سے صدر ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹ کوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی مذاکرات میں حصہ لیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد جوہری معاملے پر ایک منصفانہ، باہمی طور پر اطمینان بخش معاہدے تک پہنچنا ہے۔
اگرچہ مذاکرات کے لیے کسی واضح ایجنڈے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن مبینہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ دیگر مسائل کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی تہران واضح طور پر مخالفت کرتا ہے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں اور کسی بھی لاپرواہی کے اقدام کے نتیجے میں فوجی تصادم کا خطرہ ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں قومی دعائیہ ناشتے کی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ایک بڑا امریکی بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے جو امریکی طاقت اور دفاعی صلاحیت کا واضح مظہر ہے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران اس وقت مذاکرات کر رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ امریکا اس پر حملہ کرے۔ امریکہ امن کو ترجیح دیتا ہے تاہم طاقت کا مظاہرہ بھی امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔
