پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر قرۃ العین مری آئندہ اجلاس میں ایوان بالا میں تقریروں کے وقت کی حد متعین کرنے کے حوالے سے سینیٹ رولز میں ترمیم پیش کریں گی۔ اس سلسلے میں سینیٹ کا اجلاس اور ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔
ترمیمی تجویز کے مطابق:
قائد ایوان، قائد حزب اختلاف اور وزیر اپنی تقریر کے لیے زیادہ سے زیادہ 20 منٹ تک بات کر سکیں گے۔
دیگر ارکان کی تقریر کی حد 10 منٹ ہوگی۔
ایوان کی مرضی سے چیئرمین تقریروں کی مدت طے کر سکے گا۔
رولز میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک التوا پر تقریر کرنے والے قائد ایوان، قائد حزب اختلاف یا وزیر 20 منٹ تک بول سکیں گے۔ موجودہ رولز کے مطابق، چیئرمین اپنی صوابدید یا ایوان کی رائے کے مطابق تقریروں کی مدت طے کرتا ہے، جبکہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کو لامحدود وقت تک بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
عدم اعتماد کی قراردادوں کے حوالے سے تجویز میں کہا گیا ہے کہ:
چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد پر کوئی رکن 10 منٹ سے زیادہ نہیں بول سکے گا۔
اس قرارداد کو پیش کرنے والا اور جس کے خلاف قرارداد ہے، وہ دونوں 20 منٹ تک بول سکیں گے۔
ترمیم میں رکنی معذوری کے مواقع کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اگر کسی رکن کو بیماری یا کسی جسمانی معذوری کی وجہ سے کھڑے ہو کر تقریر کرنا ممکن نہ ہو، تو انہیں بیٹھ کر تقریر کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
اس اقدام کا مقصد سینیٹ میں تقریروں کو منظم اور مختصر بنانا اور ایوان کے وقت کو بہتر انداز میں استعمال کرنا بتایا جا رہا ہے۔
