اردو بلاگ

فانی دنیا

فانی دنیا

تخلیق کائنات سے قبل اللہ تعالیٰ نے تمام عالم ارواح جو دنیا میں پیدا ہونے والی تھی، اس ساروں کو جمع کرکے عہد لیا تھا جسے "عہد الست” کہا جاتا ہے، اس بات کی گواہی دی تھی کہ اللہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے، آپ کے ساتھ کسی شریک نہیں بنائیں گے اور ہم تاقیامت آپ کی تابعداری اور فرمانبرداری کریں گے۔ لیکن بدقسمتی سے دورِ جدید میں دنیا کی دوڑ کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم اپنا وہ عہد اور دنیا میں آنے کا اصل مقصد بھول چکے ہیں۔ ہم نے دنیا کی رونقیں اپنے دلوں میں بسانے اور حقیقی زندگی سے پشت پا ہو کر عارضی چیزوں کو اپنا لیا ہے۔ درحقیقت یہ دنیا عارضی ہے، یہ ایک امتحان کی جگہ ہے، یہاں جو بوئیں گے اس کا پھل آخرت میں ملے گا۔ یہ دنیا اور ہر چیز فانی ہے، ان سب کو فنا ہونا ہے اور ہر جاندار نے لقمۂ اجل چکھ کر اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ موت ایک حقیقت ہے جس کو اپنے مقررہ وقت پر آنا ہے اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کا آخری وقت کب آئے گا۔

بھلائی اسی میں ہے کہ ہم خود کو آخرت کی طرف گامزن کریں، اس عارضی دنیا کی جھوٹی محبت کی فریب میں نہ آئیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ "دنیاوی زندگی دھوکے کے سوا کچھ نہیں”۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا ایک آزمائش گاہ ہے، جہاں ہمارا امتحان لیا جا رہا ہے۔ ہم جو یہاں کریں گے، اسی کا بدلہ ہمیں آخرت میں ملے گا۔ دراصل ہمارے دنیا میں آنے کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور خوشنودی حاصل کرنا اور سرورِ دو عالم حضور نبی کریم ؐ کی اطاعت کرنا ہے۔

دنیا ایک فریب ہے، جو کمزور ایمان والوں کو اپنی جھوٹی محبت میں مبتلا کر کے انہیں آخرت اور حقیقی زندگی سے غافل کر دیتی ہے۔ ہم دنیا کی طلب میں اپنے دنیا میں آنے کا اصل مقصد بھول بیٹھتے ہیں اور وقتی لذتوں اور دنیاوی خواہشات کے پیچھے دوڑ کر ایسے چکر میں پھنس جاتے ہیں جو گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے، ابھی سے اپنی خطاؤں پر نادم ہو کر دل سے توبہ کریں، خود کو سنواریں، خود کو آخرت کی تیاری میں مگن رکھیں اور اللہ اور اس کے رسول ؐ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کا پختہ عزم کریں۔

دورِ جدید کی لذتوں کی وجہ سے ہم بھول بیٹھے کہ کامیابی دنیاوی مال و دولت کی جمع پونجی میں نہیں، نہ ہی عالیشان محلات اور زندگی کی پرتعیش آسائشوں کو پورا کرنے کی دوڑ میں سب سے آگے نکل کر دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں سرفہرست ہونے میں ہے۔ بلکہ اصل کامیابی و کامرانی اسی میں ہے کہ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے ہمیں کتنی تسکین ملی، ہم حقوق اللہ کے کتنے پابند رہے، حقوق العباد کی پیروی کرتے ہوئے ہم نے کتنے دل جوڑے، ہم نے کتنے گھروں کو اجڑنے سے بچایا، کتنی بیواؤں اور یتیموں کے سہارا بنے، گھر والوں، پڑوسیوں، رشتہ داروں اور دیگر لوگوں کے ساتھ ہمارا سلوک کیسا رہا اور ہم نے اپنے معاملات کتنے منصفانہ طریقے سے نبھائے۔ کامیابی یہی ہے کہ ہم دنیا سے پشت کر کے آخرت کی طرف رجوع کریں اور ہمیشہ قائم رہنے والی برزخی زندگی کو ہی اپنی منزل سمجھیں۔

آئیے، اسی وقت سے یہ عہد کرتے ہیں کہ اپنی باقی زندگی ،جو نہ جانے کب اختتام کو پہنچے گی, کو اللہ کی رضا حاصل کرنے میں صرف کریں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو کر خود کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ کے طریقوں پر ڈھالیں اور اسے اپنی زندگی کا مقصد بنائیں، جو ہماری کامرانی و سرخروئی کا راستہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دنیاوی لذتوں اور آسائشوں کی طلب میں ڈوبنے سے بچائے رکھے اور دنیا میں آنے کے اصل مقصد کو پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 

تحریر : ناصر اقبال کریمی

تحریر : ناصر اقبال کریمی

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image