پاکستان تازہ ترین

10 دن گزر گئے، حکومت نے کوئی رابطہ نہیں کیا، تحریک تحفظ آئین کا صبر ختم، اپوزیشن کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ جانیے

10 دن گزر گئے، حکومت نے کوئی رابطہ نہیں کیا، تحریک تحفظ آئین کا صبر ختم، اپوزیشن کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ جانیے

10 دن گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت نے اپوزیشن اتحاد ’’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘‘ (ٹی ٹی اے پی)’’ سے ابھی تک کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا کہ مذاکرات کب اور کیسے شروع کیے جائیں۔

ٹی ٹی اے پی نے 24 دسمبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی مذاکرات کی پیشکش قبول کی تھی، اور وائس چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ’’میڈیا ‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ اپوزیشن نے پیشکش پر سنجیدگی اور پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا ’’ہم نے بغیر کسی پیشگی شرط کے بڑے قومی مسائل پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اب گیند حکومت کی کورٹ میں ہے۔’’

کئی ماہ گزرنے کے باوجود محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر نوٹیفائی نہیں کیا گیا ہے، جس سے سیاسی عدم استحکام کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

اسی دوران، تحریک تحفظ آئین نے کل بدھ کو فواد چودھری کی قیادت میں ہونے والی ’’نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی‘‘ کی کانفرنس میں شرکت سے قبل ہی انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی اور ن لیگ آج کانفرنس میں شرکت کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گی، جبکہ سپیریئر بارز کے نمائندوں نے شرکت کی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی راہ ہموار ہونا ابھی دور ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات پارٹی کے مستقبل کے سیاسی رخ پر اتفاق رائے کو دھندلا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا ایک دھڑا مذاکرات کے مخالف ہے اور دوبارہ احتجاجی تحریک کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

پی ٹی آئی کے اندر کچھ رہنماؤں کی بات چیت پر مخالفت کے باوجود یہ واضح ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے مستقبل کے لائحہ عمل کا اختیار سربراہ ٹی ٹی اے پی محمود اچکزئی کو دے دیا تھا، جنہوں نے وزیراعظم کی پیشکش قبول کر لی تھی۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image