تعمیراتی شعبے سے بڑی خوشخبری سامنے آگئی، مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں سیمنٹ کی کھپت اور مقامی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے تعمیراتی شعبے کے لیے حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے، جہاں مالی سال 2025-26 کے دوران سیمنٹ کی مقامی کھپت اور مجموعی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث سیمنٹ کی طلب میں واضح بہتری دیکھی گئی، جسے ملکی معیشت اور تعمیراتی صنعت کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایسوسی ایشن کے اعلامیے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں سیمنٹ کی مجموعی کھپت گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 7.21 فیصد اضافے کے بعد 5 کروڑ 5 لاکھ 15 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں، نجی تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر میں سرگرمیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ متحرک رہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی طلب میں سب سے زیادہ بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں مقامی فروخت 9.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4 کروڑ 15 لاکھ ٹن تک جا پہنچی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور رہائشی و تجارتی منصوبوں میں تیزی نے مقامی فروخت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب اے پی سی ایم اے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران سیمنٹ کی برآمدات میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق برآمدات 2.19 فیصد کمی کے بعد 90 لاکھ 8 ہزار ٹن رہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیرون ملک فروخت میں معمولی کمی آئی، لیکن ملک کے اندر بڑھتی ہوئی طلب نے مجموعی فروخت کو مستحکم رکھا اور صنعت کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب نہیں ہونے دیے۔
صنعتی تجزیہ کاروں کے مطابق سیمنٹ کی کھپت میں اضافہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ رفتار پکڑ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر آئندہ بھی ترقیاتی منصوبے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو اگلے مالی سال کے دوران سیمنٹ کی مقامی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شعبے میں جاری سرگرمیاں نہ صرف سیمنٹ انڈسٹری بلکہ اسٹیل، ٹرانسپورٹ، انجینئرنگ اور دیگر متعلقہ صنعتوں کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کریں گی، جس سے روزگار کے مواقع بڑھنے اور معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری آنے کی امید ہے۔

Leave feedback about this