پاکستان

2026 کی پہلی سہ ماہی: ایزی پیسہ بینک کا قبل از ٹیکس منافع 3.66 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

2026 کی پہلی سہ ماہی: ایزی پیسہ بینک کا قبل از ٹیکس منافع 3.66 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

 

اسلام آباد،  ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک نے ایک اور ریکارڈ ساز سہ ماہی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل ریٹیل بینک کے طور پر اپنی ساخت مزید مضبوط کر لی۔ 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے بینک نے بعد از ٹیکس منافع (PAT) 1اعشاریہ 49 ارب روپے اور فی شیئر آمدن(EPS) 2 اعشایہ 47 روپے رپورٹ کیا، جبکہ قبل از ٹیکس منافع(PBT) 3 اعشاریہ 66 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں ریکارڈ کیے گئے 84 کروڑ روپے کے مقابلے میں 4 اعشاریہ 4 گنا اضافہ ہے ، جو بینک کے لیے ایک اور اہم سنگ میل ہے۔

2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی معاشی صورتحال میں بتدریج استحکام دیکھنے میں آیا، جسے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی معاہدے، دوطرفہ مالی معاونت اور مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ سرپلسز کی حمایت حاصل رہی۔ اس بہتر معاشی ماحول نے بینک کی مسلسل ترقی کے لیے سازگار بنیاد فراہم کی۔

بینک کی کارکردگی کو وسیع بنیادوں پر آمدن میں اضافے نے تقویت دی، جبکہ مجموعی آمدن میں سال بہ سال 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نیٹ مارک اپ آمدن میں 22 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ قرضہ جاتی پورٹ فولیو اور ٹریژری بکس میں توسیع رہی، جبکہ مضبوط ڈپازٹ گروتھ کے باعث ٹریژری آمدن میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ فیس پر مبنی آمدن میں بھی 27 اعشاریہ 1 فیصد کا مضبوط اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ادائیگیوں کی خدمات سے حاصل ہونے والی زیادہ آمدن، بشمول OPS ریوینیو اور لوڈ اینڈ بنڈل آمدن، کی بدولت ممکن ہوا۔

منافع میں مزید بہتری نیٹ پروویژن چارجز میں نمایاں کمی کے باعث آئی، جو ڈیجیٹل قرضہ جاتی پورٹ فولیو میں کم ڈیفالٹ ریٹس اور پہلے سے رائٹ آف کیے گئے قرضوں کی بہتر ریکوریز کی عکاسی کرتی ہے۔ آپریٹنگ اخراجات میں سال بہ سال 22 فیصد اضافہ ہوا، جو صارفین اور مرچنٹس بڑھانے اور انہیں برقرار رکھنے کے اقدامات میں بینک کی مسلسل سرمایہ کاری کے مطابق ہے۔

نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے سی ای اوجہانزیب خان کا کہنا تھا کہ یہ ریکارڈ کارکردگی پاکستان کے صف اول کے ڈیجیٹل بینک کے طور پر ہماری مضبوط پیش رفت کی عکاس ہے۔ ہماری مسلسل ترقی صارفین کے اعتماد، مؤثر حکمت عملی اور بڑے پیمانے پر مالی خدمات تک رسائی بڑھانے کے عزم کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کو ڈیجیٹل بینکاری کے ذریعے بااختیار بنانے کے وژن کے تحت ہم مالی خدمات کو مزید آسان اور محفوظ بنانے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ ہر فرد کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھی ہم جدت، اپنے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنانے اور ملک بھر میں جامع مالی شمولیت کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔

بیلنس شیٹ کے مطابق 31 مارچ 2026 تک بینک کے مجموعی اثاثے 217 اعشاریہ 6 ارب روپے تک پہنچے۔ صارفین کے ڈپازٹس میں سال بہ سال 52 فیصد اضافہ ہوا جو کہ 153 اعشاریہ 4 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ CASA اور کرنٹ اکاؤنٹ کے تناسب بالترتیب 97 اعشاریہ 7 فیصد اور 80 اعشاریہ 6 فیصد کی مضبوط سطح پر برقرار رہے۔ مجموعی قرضہ جات 27 اعشاریہ 3 ارب روپے رہے جبکہ ایڈوانسز ٹو ڈپازٹ کا تناسب 17 اعشاریہ 80 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اثاثوں کا معیار بھی مضبوط رہا، جہاں نان پرفارمنگ لونز (90 دن سے زائد تاخیر والے قرضے) 3 اعشایہ 03 فیصد رہے، جن کے مقابلے میں کوریج کا تناسب 164 فیصد رہا۔ بینک نے 21 اعشایہ 27 فیصد کی کیپیٹل ایڈی کویسی ریشو (CAR) برقرار رکھی، جو ریگولیٹری تقاضوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے چیف فنانشل آفیسر، امین سخیانی کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک اور ریکارڈ ساز سہ ماہی نتائج پیش کرنے پر فخر ہے۔ ہماری کارکردگی صارفین کے اعتماد، ہماری ٹیم کی صلاحیت اور ہمارے مضبوط ڈیجیٹل فرسٹ ماڈل کا ثبوت ہے۔ جیسے جیسے ہم لاکھوں پاکستانیوں کو بینکاری سہولیات تک رسائی فراہم کر رہے ہیں، ہم پائیدار ترقی، جدت اور بامعنی اثرات کی فراہمی پر اپنی توجہ برقرار رکھیں گے۔

ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک نے مالی شمولیت کے اپنے دائرہ کار کو مزید وسعت دی ہے اور اب اس کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 2 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سال بہ سال 30 لاکھ نئے ڈیجیٹل صارفین شامل ہوئے ہیں۔ پاکستان کے سب سے زیادہ قابل رسائی ڈیجیٹل بینک کے طور پر ایزی پیسہ جدت، نئی مصنوعات کے اجراء اور صارفین کو بہترین خدمات کی فراہمی کے تجربات کے ذریعے اپنی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرتا رہے گا۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image