تازہ ترین معیشت و تجارت

سپلائی متاثر یا کچھ اور؟ ایل پی جی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بڑھ گیا

سپلائی متاثر یا کچھ اور؟ ایل پی جی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بڑھ گیا

آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے، ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے سے گیس قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات پاکستان کی توانائی منڈی تک پہنچنے لگے ہیں، جس کے باعث ملک میں ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے اور گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مئی تک پہنچنے والے ایل این جی کے 22 کارگوز کی ترسیل رک گئی ہے، جس سے ملک میں گیس کی مجموعی سپلائی چین متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث گیس بحران کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق درآمدی ایل این جی کی بندش کے نتیجے میں گیس سیکٹر کا ریونیو شارٹ فال مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ ریونیو اہداف پورے کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال سوئی گیس کمپنیوں کا مجموعی ریونیو ہدف 852 ارب روپے سے زائد مقرر کیا گیا ہے، جس میں سوئی ناردرن کا ہدف 515 ارب روپے اور سوئی سدرن کا ہدف 347 ارب روپے ہے۔

توانائی ذرائع کے مطابق گیس کمپنیوں کی آمدنی کا 40 فیصد سے زائد حصہ فرٹیلائزر اور پاور سیکٹر سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ کیپٹو پاور پلانٹس اور سی این جی سیکٹر بھی ریونیو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم اگر کراس سبسڈی ختم کی گئی تو گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ درآمدی ایل این جی کی بندش کے باعث گیس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ پاور سیکٹر کو اضافی گیس فراہم کرنے کے نتیجے میں گھریلو صارفین کے لیے لوڈ شیڈنگ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ملک کو توانائی کے شعبے میں مزید دباؤ اور قیمتوں میں عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image