اسلام آباد: اسمارٹ شناختی کارڈز کے نئے نمونے متعارف، کیو آر کوڈ اور جدید سکیورٹی لے آؤٹ شامل ہیں ۔
“ایک قوم – ایک شناخت” کے تصور کو عمل میں بدلتے ہوئے حکومت پاکستان نے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں اہم ترامیم کردیں۔ کیو آر پر مبنی تصدیق، انسدادِ فراڈ کا مظبوط نظام اور بزرگ شہریوں کیلئے سہولتوں کے فروغ کی منظوری دی گئی۔حکومت نے نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 44 کے تحت قومی شناختی کارڈ قواعد 2002 اور پاکستان اوریجن کارڈ قواعد 2002 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ ترامیم S.R.O. 330(I)/2026 اور S.R.O. 331(I)/2026 کے ذریعے 24 فروری 2026 کو گزٹ آف پاکستان میں شائع کی گئیں۔

ان اصلاحات کے ذریعے پاکستان کے شناختی دستاویزاتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے کیو آر پر مبنی تصدیق کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، ڈیجیٹل خدمات میں توثیقی کنٹرول کو مضبوط بنایا گیا ہے، بائیومیٹرک دائرہ کار کو وسعت دی گئی ہے اور مختلف کارڈ فارمیٹس کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔
ان ترامیم کا بنیادی پہلو کوئک رسپانس کیو آر کوڈ کو بطور باقاعدہ سکیورٹی اور تصدیقی فیچر قانونی طور پر شامل کرنا ہے۔ قواعد میں کیو آر کوڈ کو ایک محفوظ، مشین سے پڑھے جانے والے دو جہتی بارکوڈ کے طور پر متعین کیا گیا ہے جو معلومات کو انکوڈ کر کے محفوظ رکھتا ہے اور اسکین کیے جانے پر قابلِ استعمال شناختی تصدیقی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، “ کیو آر کوڈ یا کوئی دیگر تکنیکی فیچر” کی اجازت دے دی گئی ہے جو موجودہ مائیکروچپ کے متبادل کے طور پر بھی استعمال ہو سکتا ہے، جس سے نادرا کو جدید اور ارتقائی تصدیقی ٹیکنالوجیز اختیار کرنے کے لیے بار بار قواعد میں ترمیم کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اس اقدام سے آف لائن اور آن لائن دونوں ماحول میں فوری اور محفوظ تصدیق کے لیے مضبوط قانونی بنیاد قائم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ممکن ہوگا کہ شہریوں کو یکساں نوعیت کا شناختی کارڈ جاری کیا جائے، بجائے اس کے کہ موجودہ طور پر دو مختلف اقسام کے قومی شناختی کارڈ رائج ہیں جن میں ایک مائیکروچپ کے ساتھ اور دوسرا بغیر مائیکروچپ کے ہوتا ہے۔
کیو آر سے فعال یہ نظام پاکستان کے ڈیجیٹل آئی ڈی نظام کو تقویت دے گا اور نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے ذریعے باہمی ربط کو مضبوط بنائے گا۔ کیو آر پر مبنی اسناد خدمات کی فراہمی کے مقامات پر فوری سطحی تصدیق کو ممکن بناتی ہیں، جبکہ بیک اینڈ نظام قابلِ اعتماد ڈیجیٹل تبادلے کے ذریعے اسناد کی صحت اور حیثیت کی توثیق کر سکتے ہیں۔ اس سے سرکاری اداروں اور ریگولیٹڈ شعبوں میں شناختی تصدیق کی رفتار، شفافیت اور یکسانیت میں اضافہ متوقع ہے، دستی کارروائیوں میں کمی آئے گی اور جعل سازی و نقالی کے خطرات کم ہوں گے۔
قواعد میں کارڈ کی معطلی کے اثرات کو بھی مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ اب یہ واضح کیا گیا ہے کہ جب کوئی کارڈ معطل کیا جائے تو اس سے منسلک تمام تصدیقی، توثیقی اور متعلقہ خدمات فوری طور پر معطل تصور ہوں گی۔ اس سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ معطل شدہ کارڈ کسی بھی ڈیجیٹل یا ادارہ جاتی تصدیقی عمل میں استعمال نہ ہو سکے۔
مزید برآں، بائیومیٹرک نظام کو مضبوط کرتے ہوئے فنگر پرنٹس اور آئرس اسکین کو قواعد میں واضح طور پر شامل کیا گیا ہے، جو جدید اور ملٹی موڈل بائیومیٹرک شناختی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
شہری سہولت کے حوالے سے ساٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے مقیم یا غیر مقیم شہریوں کے لیے خصوصی نشان کے ساتھ عمر بھر کے لیے مؤثر اسمارٹ قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس سے بزرگ شہریوں کو بار بار تجدید کی ضرورت سے نجات ملے گی اور ان کے لیے سہولت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کے لیے بھی کارڈ پر “Resident of Azad Jammu and Kashmir” کی عبارت درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ جغرافیائی شناخت کو معیاری اور یکساں بنایا جا سکے۔
آخر میں، قواعد کے شیڈولز کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ کرتے ہوئے مختلف اقسام کے اسمارٹ شناختی کارڈز کے نئے نمونے شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں مقیم شہری، بیرون ملک پاکستانی، بچوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس، معذور افراد، اعضا عطیہ کنندگان، مشترکہ زمروں اور آزاد جموں و کشمیر کے رہائشی شامل ہیں۔ تمام نئے فارمیٹس میں کیو آر کوڈ اور جدید سکیورٹی لے آؤٹ کو نمایاں طور پر شامل کیا گیا ہے، جس سے ایک جدید اور معیاری شناختی دستاویزی نظام قائم ہوگا۔
مجموعی طور پر یہ ترامیم پاکستان کے قومی شناختی نظام کی قانونی اور تکنیکی بنیادوں کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔ کیو آر پر مبنی محفوظ تصدیق، ڈیجیٹل توثیقی نظام کی مضبوطی، بائیومیٹرک یقین دہانی میں اضافہ، فوری معطلی کے ذریعے فراڈ کے خطرات میں کمی اور بزرگ شہریوں کے لیے عمر بھر کی معیاد جیسی سہولتیں پاکستان کو مربوط ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کی جانب مزید آگے لے جائیں گی۔ یہ اصلاحات نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر اور وسیع تر ڈیجیٹل آئی ڈی نظام کے ذریعے بین الادارہ جاتی ہم آہنگی اور جدید ڈیجیٹل گورننس کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی۔

Leave feedback about this