اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک متنازع منصوبے، یعنی ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ قائم کرنے کے اقدام سے روکنے کیلئے مداخلت کی ہے۔پارٹی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ براہِ راست اور سینئر پارٹی رہنماؤں کے ذریعے کی جانے والی یہ مداخلت ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان کو رہا کرانے کیلئے ایک مخصوص فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، بیرسٹر گوہر نے دوٹوک انداز میں (وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکو) خبردار کیا کہ کسی بھی ایسے گروپ کا قیام جسے ’’فورس‘‘ کہا جائے، خصوصاً اگر اس کے ارکان سے کسی سیاسی مقصد کیلئے حلف لیا جائے، تو اسے غیر آئینی اور غیر قانونی تصور کیا جا سکتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ اقدام عسکریت پسندی کے دائرے میں بھی شمار ہو۔کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر اپوزیشن اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا تاکہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کے اندر اس اقدام کیخلاف سیاسی ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
سیاسی حلقوں میں اس تجویز کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے 22 فروری کو مجوزہ فورس کے ارکان سے حلف لینے کا ارادہ کیا تھا، تاہم اندرونی اعتراضات کے بعد آخری لمحے پر اس اقدام کو موخر کر دیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا رمضان کے بعد حلف برداری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نجی سطح پر تسلیم کرتے ہیں کہ اس منصوبے نے مرکزی قیادت میں تشویش پیدا کی، کیونکہ کسی نیم تنظیمی ’’فورس‘‘ کی تشکیل پارٹی کو قانونی کارروائی اور محاذ آرائی کو فروغ دینے کے الزامات کی زد میں لا سکتی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مبینہ طور پر مشورہ دیا کہ اگر عمران خان کی رہائی کیلئے متحرک ہونا ضروری ہو تو اس کیلئے صوبائی، علاقائی اور ضلعی سطح پر قانونی سیاسی کمیٹیاں قائم کی جائیں، جیسا کہ ماضی میں سیاسی تحریکوں میں کیا جاتا رہا ہے، تاکہ آئینی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
یہ معاملہ حالیہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں بھی نمایاں طور پر زیر بحث آیا، جہاں شرکاء کو اس موضوع پر عوامی سطح پر تبصرہ نہ کرنے کی ہدایت دی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیادت اس ممکنہ طور پر نقصان دہ اندرونی تنازع کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ واقعہ پی ٹی آئی کے اندر حکمت عملی کے حوالے سے بڑھتے اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب پارٹی ایک پیچیدہ سیاسی ماحول کا سامنا کر رہی ہے، اس وقت بعض رہنما جارحانہ انداز سے متحرک ہونے کے حامی ہیں، جبکہ دیگر محتاط اور قانونی طور پر قابل دفاع راستہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں۔ یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو رہائی فورس قائم کرنے کا آئیڈیا روپوش پی ٹی آئی رہنما مراد سعید نے دیا۔ سہیل آفریدی کو بھی خیبر پختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے منصب کیلئے مراد سعید کا نامزد کردہ امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان سہیل آفریدی کو ذاتی طور پر پہلے نہیں جانتے تھے۔

Leave feedback about this