اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سنا ہے پی ٹی آئی نے عید کے بعد لانگ مارچ کی تیاری شروع کردی، 8 فروری کی ہڑتال ناکام ہوگئی۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 8 فروری کی ہڑتال نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ بری طرح ناکام ہوئی، 8 فروری کی ہڑتال کی کوئی تیاری نہیں تھی اور ملک میں سڑکیں بند کرنے کے نعرے لگائے جارہے تھے، 8 فروری کی ہڑتال کامیاب نہ ہوئی تو پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان ضرور ہوگا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے کبھی پی ٹی آئی کے بانی کو جیل سے باہر کسی جگہ منتقل کرنے کی پیشکش نہیں کی، یہ ضرور کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے بانی صحت کی وجہ سے ہسپتال یا کسی اور جگہ منتقلی کی درخواست دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے بانی اس وقت سزا یافتہ ہیں اور عدالت کی تحویل میں ہیں، اگر عدالت اپیل پر حکم دیتی ہے تو پی ٹی آئی کے بانی کو ہسپتال یا کسی اور جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے گالی بریگیڈ دوسروں کے لیے بنائی، لیکن اب یہ ان کے اپنے گلے کی ہڈی بن چکی ہے، پی ٹی آئی کی گالی بریگیڈ سے کسی کی عزت محفوظ نہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سلمان صفدر ملاقات کے حوالے سے رپورٹ میں کیا لکھتے ہیں، اگر حقائق کے برعکس رپورٹ آئی تو حکومت یا جیل حکام اسے چیلنج کریں گے، اگر حقائق کے برعکس رپورٹ آئی تو چیلنج کے بعد مزید تصدیق کا عمل ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کچھ چیزیں ریکارڈ پر ہیں اور کچھ آف دی ریکارڈ، عدالت کے سامنے جو موقف پیش کیا جائے گا دیکھا جائے گا، پی ٹی آئی کی معاملات کو بہتر کرنے میں ناکامی ان کے رویے کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر نے خود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی ہے، سلمان صفدر ملاقات کے بعد رپورٹ تیار کریں گے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق بانی پی ٹی آئی صحت مند ہیں، بانی پی ٹی آئی کا روزانہ میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے، کھانا اور ناشتہ ڈاکٹر سے چیک کیا جاتا ہے اور پھر بانی کو دیا جاتا ہے، جہاں سے بانی پی ٹی آئی کو اعتماد ہوتا ہے وہاں سے راشن منگوایا جاتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے سیل میں اخبارات اور ٹی وی کی سہولت موجود ہے، بانی پی ٹی آئی کے زیر استعمال سیل 6 کمروں پر مشتمل ہے، سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی سے تین گھنٹے تک ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ سمجھا جا رہا ہے کہ سلمان صفدر نے بھی سیل کا مکمل معائنہ کیا ہوگا، دوسری طرف ایسی باتیں آنا شروع ہو گئی ہیں جن سے حکومت توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر وزیراعظم سے ملتے تو کہتے کہ احتجاج کی کال واپس لینے کا منصوبہ ہے۔ پی ٹی آئی کی 8 فروری کو ہڑتال کی کال صرف میڈیا اور اخباری بیانات تک محدود تھی۔

Leave feedback about this