امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کی ایک بڑی بحری اور فضائی فوجی طاقت ایران کی جانب روانہ کر دی گئی ہے۔
ایئر فورس ون میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ متعدد بحری جہاز اور طیارے ایران کے قریب تعینات کیے جا رہے ہیں، تاہم اس فوجی نقل و حرکت کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا لازمی طور پر کسی فوجی کارروائی کا آغاز کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر فورس تعینات کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی دھمکی کے بعد ایران نے پھانسیوں کے فیصلے منسوخ کیے۔
ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرتا ہے تو امریکا دوبارہ حملہ کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ گرین لینڈ کی سکیورٹی کے حوالے سے نیٹو کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے اور سال کے اختتام پر چینی صدر امریکا کا دورہ کریں گے۔

Leave feedback about this