تازہ ترین

لاہور کی راوی کنارے بستیاں زیر آب، بھارت سے آج ایک اور سیلابی ریلا آئے گا

لاہور کی راوی کنارے بستیاں زیر آب، بھارت سے آج ایک اور سیلابی ریلا آئے گا

لاہور:پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی آبادیاں بھی سیلاب کی زد میں آ گئیں، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، بھارت سے آج شام ایک اور سیلابی ریلا چناب میں آئے گا جبکہ آج پنجاب سمیت ملک بھر میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے جس سے سیلابی صورتحال بدتر ہو سکتی ہے۔راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی نے لاہور، قصور، جھنگ، حافظ آباد، پاکپتن، سیالکوٹ، چنیوٹ، منڈی بہاالدین، گوجرانوالہ، وزیر آباد، سرگودھا، نارووال، بہاولنگر اور بہاولپور سمیت کئی اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے۔
صوبہ پنجاب میں چار دہائیوں میں آنے والے بدترین سیلاب کی وجہ سے حکام کے مطابق رواں ہفتے کے دوران 14 لاکھ 60 سے زیادہ لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں، پنجاب میں حالیہ سیلاب نے سینکڑوں دیہات میں تباہی مچائی، جس کی وجہ سے اناج کی اہم فصلیں بھی زیر آب آ گئی ہیں۔پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ مون سون کی طوفانی بارشوں اور پڑوسی ملک کی جانب سے اپنے ڈیموں سے زیادہ پانی چھوڑنے سے صوبے میں بہنے والے تین دریاں میں پانی کا بہا زیادہ ہوا، بعض جگہوں پر دریا کے کناروں کو توڑنا بھی پڑا، جس کی وجہ سے 1692 سے زیادہ دیہات میں سیلابی پانی داخل ہوا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور موسی رضا کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں اس وقت دو لاکھ 11 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، اگلے 10 گھنٹوں میں پانی کے بہاو میں مزید کمی آئے گی۔لاہور میں ابھی تک کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، دو ہزار کے قریب شہریوں کو پہلے نکالا گیا تھا، جو لوگ نہیں جاسکے ان کو18ریلیف کیمپس میں ٹھہرایا ہوا ہے، پانچ کیمپس میں ابھی لوگ ہیں انہیں ناشتہ اورکھانا فراہم کیا جارہا ہے۔نارووال میں بھی پانی کم ہو رہا ہے، ہمارا فوکس اس وقت ریسکیو آپریشن پر ہے، ہماری مختلف اضلاع سےآنیوالی سبزیوں کی سپلائی لائنز تھوڑی متاثر ہوئی ہیں، سپلائی لائن میں معمولی سا ڈپ آیا ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب سے لاہور کے کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں، جہاں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔رنگ روڈ سے ملحقہ بادامی باغ کے علاقے میں بھی دریائے راوی کا سیلابی پانی داخل ہوا، چوہنگ کے مختلف علاقے بھی زیر آب آ گئے ہیں، چوہنگ میں نجی ہاسنگ سوسائٹی میں پانی داخل ہونے کے بعد مکینوں نے رات گئے نقل مکانی کر لی۔منظور گارڈن، برکت کالونی اور مانوال سمیت مختلف علاقوں میں سیلابی پانی آیا، فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد بھی زیر آب گئے، شہری انتظامیہ کی جانب سے مکینوں کی نقل مکانی یقینی بنانے کا دعوی کیا گیا ہے۔
ہائی رسک علاقوں میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسی، عزیز کالونی، قیصر ٹان، فیصل پارک، دھیر، کوٹ بیگم شامل ہیں۔ضلع شیخوپورہ میں فیض پور خو، دھمیکے، ڈاکہ، برج عطاری، کوٹ عبدالمالک میں سیلاب کا خطرہ ہے۔
ضلع قصور کے علاقے پھول نگر، رکھ خان کے، نتی خالص، لمبے جگیر، کوٹ سردار، ہنجرائے کلاں، بھتروال کلاں، نوشہرہ گئے کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔ضلع خانیوال میں غوث پور، میاں چنوں، امید گڑھ، کوٹ اسلام، عبدالحکیم اور کبیروالہ میں سیلاب متوقع ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ پنجاب نے بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کا نیا مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت سے سیلابی ریلا آج شام دریائے چناب ہیڈ تریموں بیراج پہنچے گا۔ہیڈ تریموں بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا ہوگا، 2 ستمبر کو ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا پہنچے گا۔

 

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image