رہنماء پی ٹی آئی سینیٹر مشال یوسفزئی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پر جو ظلم ہوا ہے اس میں اپنے بھی شامل تھے اور اب بھی ہیں، لیکن وقت آنے پر ایک ایک بات بتاؤں گی۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے بتایا کہ عمران خان صاحب اور بشریٰ بی بی کے ساتھ پچھلے ایک سال سے جو ظلم ہوا ہے، اس میں اپنے بھی شامل تھے اور اب بھی ہیں۔
اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس بات کو اس لیے چھپایا گیا تھا تاکہ شدید عوامی ردِعمل نہ آئے، اور سب نے مل کر یہ طے کیا تھا کہ اس معاملے کو دبا دیا جائے گا کیونکہ آگے 5 اگست کا جلسہ تھا۔
پھر یہ بیانیہ بنایا گیا کہ خان صاحب نے مشال کو پارٹی سے نکالنے کا کہا ہے، مگر میں نے کسی چیز کی پروا نہیں کی اور صاف کہا کہ اچھا کر کے دیکھ لو کیونکہ یہ میرے لیڈر کی صحت اور زندگی کا معاملہ تھا۔ میرے ہی پیٹیشن میں خان صاحب کی صحت کی رپورٹ سپریم کورٹ میں سامنے نا آتی تو شاید عوام تک سچ کبھی نا پہنچتا ۔
پچھلے ایک سال سے مائنس عمران خان کے راستے میں واحد رکاوٹ صرف گوہر بھائی رہے ہیں، جبکہ اس سازش کی سہولت کاری بہت سے اپنے لوگوں اور پیڈ بیانیہ بنانے والوں نے کی ہے۔
اسی لیے سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ منفی مہم بھی گوہر بھائی کے خلاف ہی چلائی گئی۔ اب ہم لانگ مارچ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور صوابی میں اسلام آباد جانے والے کنٹینر پر چڑھنے کے منتظر ہیں اور تب تک اپنی حفاظت کر رہے ہیں۔ باقی تمام باتیں انشاءاللہ لانگ مارچ کے بعد ہوں گی۔ بس اتنا کہنا ہے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہے، وہ سب مایا ہے۔
مشال یوسفزئی نے ایکس پر ایک ٹویٹ میں کا کہ خان صاحب کا بی پی اتنا ہائی ہوتا تھا کہ انہیں ومیٹ ہوتی تھی ، سینے اور بازو میں درد ، ڈائجسشن کے مسائل اور انزائٹی لیول پلس 3 تھا اور یہ بات پارٹی کے ذمہ داران ، فیصلہ ساز اور فیملی سب کو پتہ ہے ۔
میرے لیڈر کے ساتھ بہت ظلم ہوّا ہے ، وہ لیڈر جو اس قوم کی خاطر اتنی تکالیف برداشت کر رہا ہے ۔ یہ لانگ مارچ عمران خان صاحب کو انصاف دلانے کے لیے ہے ، ہم سب نے نکلنا ہے ۔
