اسلام آباد:پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے بعد ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انکشاف کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے انسدادِ دہشت گردی اور امن و امان کے لیے ایک تحریری معاہدے اور عملدرآمد کے منصوبے پر مکمل اتفاق کیا تھا، تاہم مذاکرات کے آخری مرحلے میں وہ اپنے ان تمام وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک اہم اور تفصیلی بیان میں اس رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا اس وقت جنگ کی صورتحال میں ہے اور اس قسم کی حساس صورتحال میں سیکیورٹی کے معاملے کو کسی صورت سیاسی نہیں بنایا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران خیبرپختونخوا حکومت نے بہتر گھنٹوں کے اندر اندر ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور اس پر عملدرآمد کا باقاعدہ پلان پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
وزیر داخلہ کے مطابق، اس مجوزہ معاہدے میں صوبے کی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اہم نکات طے کیے گئے تھے، جن میں امن و امان کی موجودہ حالت اور پولیس امور کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھنے کے لیے پولیس ایکٹ 2026ء پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔
محسن نقوی نے مزید لکھا کہ ”اس کے علاوہ صوبے کی حد میں کسی بھی دہشت گرد گروہ کو آزادانہ کارروائیوں اور محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی کو روکنے کے ساتھ ساتھ کالعدم ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور تمام دیگر دہشت گرد گروہوں کی بلا مشروط مذمت کرنے پر بھی اتفاق رائے پیدا ہوا تھا۔
مذاکرات کے دوران طے پانے والے دیگر نکات کی تفصیل بتاتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کے حوالے سے بنائی گئی قومی پالیسی کی مکمل حمایت، افغان مہاجرین کے کیمپوں کے خاتمے اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
