ذاکراللہ باڑہ کا رہائشی ہے اور بائیکیا چلاتا ہے، محنت مزدوری سے گھر والوں کا پیٹ پالتا ہے، ان پر ایک بھی ایف آئی آر نہیں ہے، یہ محب وطن پاکستانی اور پی ٹی آئی کا ورکر ہے، وزیراطلاعات شفیع جان کی نیوزکانفرنس
خیبرپختونخواہ حکومت اُس شخص کو منظرعام ہر لے آئی، جس شہری کو اختیارولی نے دہشتگرد قرار دیا تھا، ذاکراللہ باڑہ کا رہائشی ہے اور بائیکیا چلاتا ہے، محنت مزدوری سے گھر والوں کا پیٹ پالتا ہے، ان پر ایک بھی ایف آئی آر نہیں ہے، یہ محب وطن پاکستانی اور پی ٹی آئی کا ورکر ہے۔
انہوں نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح گیارہ بجے اختیار ولی میڈیا پر آتے ہیں اور پی ٹی وی کا مائیک ان کے سامنے پڑا ہوتا ہے، کچھ چیزوں کو میڈیا اور عوام کے سامنے رکھتے ہیں اور جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں، اس جھوٹے بیانیئے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پی ٹی آئی اور کے پی حکومت کو دہشتگردوں سے جوڑتے ہیں، آج بتاؤں گا کہ کیسے ایک محب پاکستانی کو دہشتگرد کہہ رہے ہیں، اور کیسے ایک محب وطن پارٹی کو دہشتگردی کے ساتھ جوڑا جارہا ہے، کیسے ایک منتخب وزیراعلیٰ کو کبھی طالبان ، کبھی دہشتگردوں اور کبھی منشیات فروشوں اور کبھی اسمگکلرزکے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔
ہم بتائیں گے کہ فارم 47 کی حکومت وفاق کیلئے خطرہ ہے، یہ بار بار وفاق اور خیبرپختونخواہ پر لفظی حملے کررہے ہیں، کبھی پختونوں کو دہشتگرد کہتے ہیں، پختونوں کو دہشتگرد کہنا گالی کے مترادف ہے۔ کے پی نے 80 ہزار شہادتیں دیں، لوگ دربدر ہوئے، اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ وفاقی اور پنجاب حکومت چیزوں کو ایک سانحہ کی طرف لے کر جارہی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ یہ ذاکرہے، ان کا پورا نام ذاکر اللہ اور والد کا نام شربت خان ہے۔ ذاکر کا تعلق وادی تیراہ سے ہے، یہ بنیادی طور پر ٹیلر ہے، ان کی شاپ آرمی کے ہیڈکوارٹرباغ مرکز کے ساتھ تھی، جب آپریشن کیا گیا تو ذاکر بھی ہجرت کرکے آگئے، آج کل ان کی رہائشگاہ باڑہ میں ہے، اور یہ بائیکیا چلاتے ہیں، موٹرسائیکل پر پِک اینڈ ڈراپ دیتے ہیں، محنت مزدوری کرتے ہیں اور اس محنت مزدوری سے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں،آج تک ذاکر پر ایک ایف آئی آر نہیں ہے،مقدمہ 107کی ایف آئی آر بھی نہیں ہے۔ یہ ایک محب وطن پاکستانی ہے اور تحریک انصاف کا ورکر ہے، جہاں بھی تحریک انصاف کا کوئی جلسہ ہوتا ہے، جہاں بھی پی ٹی آئی کا کوئی ایونٹ ہوتا ہے، ذاکر وہاں پہنچ جاتے ہیں۔
