گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سہیل آفریدی پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سہیل آفریدی

گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سہیل آفریدی

گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سہیل آفریدی

خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کی دھمکیوں کے ردِعمل میں کہا ہے کہ ایسی دھمکیوں سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے، اپنے نظریے اور صوبے کے حقوق کی خاطر اقتدار اور کرسی کی قربانی دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔ پشاور میں امن و امان سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطح کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق میں بیٹھے حکمران اپنی غلط پالیسیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹے بیانیے تراش رہے ہیں، خیبر پختونخواہ کے تمام سیاسی و سماجی سٹیک ہولڈرز اور عوام متفقہ طور پر کہہ چکے ہیں کہ وفاق دہشتگردی کے خلاف اپنی ناکام پالیسی میں فوری تبدیلی لائے مگر پالیسی میں اصلاحات کرنے کے بجائے الٹا خیبر پختونخواہ پر الزام تراشی کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے گورنر راج کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے ڈر کر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، ایسی کرسی اور اقتدار پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے، عوام کی سکیورٹی اور صوبائی خودمختاری کے اصولی مؤقف سے ہٹا دے، خیبر پختونخواہ کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے قیامِ امن کی خاطر بے شمار اور ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں، صوبے کے 80 ہزار سے زائد افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مگر افسوس کہ دو دہائیوں کی ان لازوال قربانیوں سے حاصل کردہ امن کو غلط فیصلوں کے باعث دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا۔

سہیل آفریدی نے وفاق پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خطرے اور ان کی دوبارہ آباد کاری کے وقت سے ہی میں وفاقی حکومت کو مسلسل خبردار کرتا رہا اور متعدد بار خطرات سے آگاہ کیا لیکن وفاق نے ہمارے سنجیدہ بیانات کو ہمیشہ پراپیگنڈہ قرار دے کر رد کیا، میں نے بار بار کہا ہے کہ ریاست کی موجودہ سکیورٹی پالیسی بالکل غلط ہے، کے پی کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا گیا مگر خیبر پختونخواہ کو دوبارہ دہشت گردی کی ہولناک آگ میں جھونکنے کی یہ پالیسی اب کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

Exit mobile version