ماسکو: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عمومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ دنیا میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ایک زیادہ منصفانہ کثیر قطبی عالمی نظام تشکیل پا رہا ہے، تاہم مغربی ممالک اپنی سابقہ بالادستی اور مراعات برقرار رکھنے کیلئے طاقت، دباؤ اور دوہرے معیار کا استعمال کر رہے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یوکرین تنازع، مشرق وسطیٰ کی صورت حال، فلسطین، ایران، خلیج فارس، کیوبا، بلقان اور عالمی سلامتی سے متعلق روس کا مؤقف پیش کیا۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ عالمی جنوب اور مشرق کے ممالک خودمختار ترقیاتی مراکز کی حیثیت سے سامنے آ رہے ہیں اور اپنے خطوں میں سلامتی یقینی بنانے کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ممالک بین الاقوامی قانون کی پاسداری، بیرونی دباؤ کو مسترد کرنے اور صرف مخصوص ممالک کے بجائے تمام ریاستوں کی ترقی اور خوش حالی کے اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ کے مطابق یہی تعمیری سوچ روس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے اور آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ، شنگھائی تعاون تنظیم، برکس اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے اندر روس کے تعاون کی سمت متعین کرتی ہے۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ مغربی ممالک دنیا پر اپنے بنائے ہوئے قوانین مسلط کرنے اور اپنی مراعات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مغرب طاقت کے استعمال، غیر متوقع اقدامات اور مہم جوئی کے ذریعے لاکھوں بلکہ اربوں افراد کی زندگیوں اور فلاح کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
انہوں نے صدر ولادیمیر پوتن کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی طاقت کی بالادستی پر مبنی نظام بے قابو ہوچکا ہے اور دنیا کے دیگر ممالک کے لیے خطرناک بنتا جا رہا ہے۔
