سوچتا ہوں کہ مزدور طبقہ 50 ہزار میں گھر کیسے چلاتا ہوگا، مکان کا کرایہ، صحت کے مسائل اور بچوں کے اخراجات کیسے پورے کرتا ہوگا؟ لیگی ایم پی اے طاہر جمیل
لیگی ایم پی اے طاہر جمیل کا کہنا ہے کہ سوچتا ہوں کہ مزدور طبقہ 50 ہزار میں گھر کیسے چلاتا ہوگا،مکان کا کرایہ، صحت کے مسائل اور بچوں کے اخراجات کیسے پورے کرتا ہوگا؟میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری 5 لاکھ روپے تنخواہ ہے، لیکن اس تنخواہ میں میرا گزارا نہیں ہورہا، سوچتا ہوں کہ ہمارے اردگرد ڈرائیور ہیں، یا مزدور طبقہ ہے، مزدور کی فیکٹری میں تنخواہ 50 ہزار روپے ہے، اب 50 ہزار میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ بندہ گھر کیسے چلائے گا، اس کے صحت کے مسائل ہیں۔
اس کے بچے ہیں، مکان کا کرایہ دینا ہوگا، شہر کے اندر رہنے کیلئے موٹرسائیکل میں تیل بھی ڈلوانا ہے۔
اس سے قبل مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی شمائلہ رانا نے اراکینِ پارلیمنٹ کی مراعات اور موجودہ تنخواہوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 5 لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ میں گزارا کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور اراکین کی تنخواہ کم از کم 10 لاکھ روپے ہونی چاہیے۔
ایک انٹرویو کے دوران قومی اسمبلی میں اراکین کو ملنے والے مالیاتی فوائد پر گفتگو کرتے ہوئے شمائلہ رانا کا کہنا تھا کہ اراکینِ پارلیمنٹ کو جس قسم کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، موجودہ تنخواہ اس کے لیے بالکل ناافی ہے، ہمیں حکومت یا پارلیمنٹ کی طرف سے کوئی اضافی مراعات نہیں ملتیں، نہ رہنے کو گھر ملتا ہے، نہ گاڑی اور نہ ہی کوئی سرکاری ڈرائیور فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے دلچسپ اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں خود آج کل ڈائیٹنگ پر رہتی ہوں، اس لیے مجھے کچھ پیسے بچ جاتے ہیں، اگر ڈائیٹ نہ ہو اور خوراک نارمل ہو تو پھر اتنی تنخواہ میں گزارا کرنا بھی انتہائی مشکل ہو جائے، اس لیے موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اراکینِ اسمبلی کی تنخواہ کم از کم 10 لاکھ روپے ماہانہ ہونی چاہیے۔ اپنی خاندانی اور سیاسی پس منظر پر بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما نے اپنی والدہ کی سیاسی قربانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی والدہ نے نچلی سطح پر بے شمار اسٹریٹ پالیٹکس کی، جلسے جلوسوں میں شرکت کی، سختیاں جھیلیں اور جیلیں کاٹیں، یہاں تک کہ انہوں نے جمہوری جدوجہد کے دوران گورنر ہاؤس کا گیٹ بھی کراس کیا، حقیقت یہ ہے کہ سیاست کے ’دل میں کوئی دل‘ نہیں ہوتا۔
