جنگ کے دوران 11 ارب روپے کا جہاز خریدا گیا، یہ لوگ پاکستانی عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، لوگوں کو پتہ چل گیا ہے کہ ان کا حق کیسے مارا جا رہا ہے؛ امیر جماعت اسلامی کی میڈیا سے گفتگو
امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کے پیٹرولیم ریلیف کو محض اونٹ کے منہ میں زیرا قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کا بھتہ فوراً ختم کرے اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کرے۔ سکھر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دنیا بھر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں لیکن موجودہ حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہے، لیوی کے معاملے پر حکومت کے ساتھ جماعتِ اسلامی کے دو بار باقاعدہ مذاکرات ہوچکے، جس میں حکومتی ٹیم کو واضح طور پر طریقہ کار بتایا گیا کہ کس طرح لیوی کم کرکے دیگر شعبوں سے ٹیکس کی وصولی بڑھائی جا سکتی ہے مگر حکومت عوامی مفاد کے فیصلے کرنے سے گریزاں ہے۔
حکومتی فضول خرچیوں اور وزراء کے بیانات پر شدید تنقید کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ جنگ جیسے نازک حالات کے دوران 11 ارب روپے کا نیا جہاز خریدا گیا، یہ حکمران طبقہ مسلسل پاکستانی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے، وزراء یہ بیانات دے کر کہ پیٹرول بند ہوا تو 5 ہزار روپے فی لیٹر ملے گا، عوام میں خوف و ہراس پھیلانے سے گریز کریں۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی کا پُرامن ٹرین مارچ ملتان پہنچ کر روڈ کارواں میں تبدیل ہوگا اور اپنے حتمی مقصد کے لیے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کرے گا، دھرنوں اور احتجاگی تحریک میں عوام کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ لوگ اب اپنے حقوق سے آگاہ ہو چکے ہیں، خواہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو، اقتدار میں ہمیشہ ایک ہی جیسے لوگ آتے ہیں جو ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، ہم مکمل پُرامن طریقے سے اسلام آباد جا رہے ہیں، اگر حکومت واقعی عوام کے مسائل حل کر دے تو ہمیں مارچ کرنے کا کوئی شوق نہیں۔
