مودی نے چینی صدر کیساتھ ایسی کیا حرکت کی، جس کے باعث شی جن پنگ ’’برکس سمٹ‘‘ وقت سے پہلے چھوڑ کر چلے گئے تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

مودی نے چینی صدر کیساتھ ایسی کیا حرکت کی، جس کے باعث شی جن پنگ ’’برکس سمٹ‘‘ وقت سے پہلے چھوڑ کر چلے گئے

مودی نے چینی صدر کیساتھ ایسی کیا حرکت کی، جس کے باعث شی جن پنگ ’’برکس سمٹ‘‘ وقت سے پہلے چھوڑ کر چلے گئے

مودی نے چینی صدر کیساتھ ایسی کیا حرکت کی، جس کے باعث شی جن پنگ ’’برکس سمٹ‘‘ وقت سے پہلے چھوڑ کر چلے گئے

بھارتی سینئر صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ چینی صدر اور دیگر رہنماؤں نے بھارتی وزیراعظم کے نامناسب رویے، مثلاً زبردستی ہاتھ ملانے، کی وجہ سے بھارت میں ہونے والی برکس سمٹ سے وقت سے پہلے روانگی اختیار کی، بھارت مستقبل میں کسی بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی کا مستحق نہیں۔

یہ صورتحال انتہائی شرمناک ہے۔ ایکس پر اپنے تبصرے میں زرد سی گانا کا کہنا تھا کہ برکس اجلاس کے بعد ایک الوداعی لنچ ہونا تھا، چینی صدر شی جن پنگ اس لنچ میں بھی نہیں آئے اور اس لنچ کے شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی کار پکڑی اور سیدھے ایئرپورٹ چلے گئے۔ وہاں سے فلائٹ لے کر سیدھے انڈیا چھوڑ کر چلے گئے۔ اس پر کہا جارہا ہے کہ چینی صدر نے اتنی جلدی انڈیا کیوں چھوڑا، کیوں وہ جلدی انڈیا سے چلے گئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بےعزتی محسوس کی، جب مودی ان کا زبردستی ہاتھ پکڑ رہے تھے۔

بھارتی وزیراعظم کے نامناسب رویے، مثلاً زبردستی ہاتھ ملانے، کی وجہ سے بھارت میں ہونے والی برکس سمٹ سے وقت سے پہلے روانگی اختیار کی۔ پھر چینی صدر کے سامنے کہہ دیا کہ اس کا ویپن نہیں ہونا چاہیئے بلکہ سب کو ملنا چاہیئے۔ اس کے برعکس بھارت اور یورپی ممالک چین پر انحصار کرتے ہیں۔

دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کے 73 سالہ صدر رامافوسا، بھارت میں برکس رہنماں کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس آنے کے بعد بیمار ہوگئے، صدارتی ترجمان کے مطابق رامافوسا نے کابینہ کے وزرا سے کہا تھا کہ وہ جہاں ممکن ہو مقررہ عوامی تقریبات میں ان کی نمائندگی کریں، یہ بتائے بغیر کہ ان کی غیر حاضری کب تک جاری رہ سکتی ہے۔

جنوبی افریقہ کے نائب صدر پال ماشیٹائل بھی طبی عمل کے بعد اپنے ڈاکٹروں کے مشورے پر آرام کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ رونالڈ لامولا رامافوسا کی غیر موجودگی میں اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنوبی افریقہ کے وفد کی قیادت کریں گے۔لامولا امریکہ کی طرف سے جنوبی افریقیوں پر لگا گئے نسل پرستانہ الزامات اور امریکہ کی طرف سے ویزا پابندیاں عائد کرنے پر امریکہ پہنچیں گے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ جنوبی افریقہ کی سفید فام افریقی اقلیت پر ظلم کیا جا رہا ہے۔جنوبی افریقہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گوروں کے خلاف امتیازی سلوک کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور اسے صدیوں کی نسلی ناانصافی کی وراثت سے نمٹنے کے لیے پالیسیاں وضع کرنے کا حق ہے۔

Exit mobile version