کراچی: سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس اور رجسٹریشن مراعات میں 2 سال کی توسیع کردی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں صاف، ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اہم فیصلہ کیا گیا۔
سندھ کابینہ نے غیر تجارتی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس اور رجسٹریشن مراعات میں مزید دو سال کی توسیع کردی اور الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹیکس میں رعایت کا پیکیج منظور کرلیا۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس اور رجسٹریشن مراعات 29 مئی 2028 تک جاری رہیں گی، جبکہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول کی الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق تجویز بھی کابینہ نے منظور کرلی۔
کابینہ نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس صرف ایک ہزار روپے برقرار رکھنے کی منظوری دی۔ غیر تجارتی الیکٹرک گاڑیوں کا سالانہ موٹر وہیکل ٹیکس 500 روپے برقرار رہے گا، جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر 500 روپے ایک مرتبہ تاحیات موٹر وہیکل ٹیکس عائد ہوگا۔
کابینہ کے فیصلے کے مطابق 2000 سی سی یا اس سے زائد مساوی انجن کی حامل الیکٹرک گاڑیوں پر 5 ہزار روپے لگژری ٹیکس ہوگا، جبکہ الیکٹرک گاڑی کی تاخیر سے رجسٹریشن پر ایک ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ مراعات کا اطلاق 30 مئی 2026 سے 29 مئی 2028 تک ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔ الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ کاربن کے اخراج میں کمی اور شہری فضائی آلودگی کے خاتمے میں معاون ہوگا۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی سندھ حکومت کی اہم حکمت عملی ہے۔ ٹیکس مراعات کے تسلسل سے صوبے میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ ملے گا، جبکہ الیکٹرک موبیلٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے مراعات اہم کردار ادا کریں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی سے کاربن اخراج کم اور شہری ہوا کا معیار بہتر ہوگا۔ سندھ کابینہ کے فیصلے کے تحت صوبے میں صاف، ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق ٹیکس اور رجسٹریشن مراعات جاری رکھی جائیں گی۔
