روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اگر چین اسے مناسب اور فائدہ مند سمجھتا ہے تو روس دونوں ممالک کے درمیان ویزا فری نظام کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے بیجنگ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
صدر پوتن نے یہ بات بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران کہی۔
روسی صدر کے مطابق ویزا فری سفر کی سہولت سے روس اور چین کے درمیان سیاحتی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سیاحوں کی آمدورفت میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صدر پوتن نے کہا کہ ماسکو ویزا فری نظام کو مستقل شکل دینے کے لیے چینی فریق کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے بیجنگ کی رضامندی اور اسے فائدہ مند سمجھنا ضروری ہے۔
روس نے یکم دسمبر 2025 کو باہمی اصول کے تحت چینی شہریوں کو 30 دن تک بغیر ویزا روس میں داخلے کی اجازت دی تھی، جبکہ اس سے قبل چین بھی روسی شہریوں کے لیے اسی نوعیت کی ویزا فری سہولت متعارف کرا چکا تھا۔
بعد ازاں روس اور چین نے ویزا فری داخلے کی سہولت کو 2027 کے اختتام تک توسیع دے دی تھی۔
ماسکو میں چین کے سفیر ژانگ ہانہوئی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ویزا پابندیوں میں نرمی کے بعد رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں چین سے روس آنے والے سیاحوں کی تعداد میں تقریباً ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا۔
