روس نے خبردار کیا ہے کہ یوکرینی فورسز کی جانب سے برطانوی ہتھیاروں سے روسی سرزمین پر حملے جاری رہے تو برطانوی فوجی تنصیبات کو بھی ہدف بنایا جاسکتا ہے۔ روس کی جانب سے یہ بیان ماسکو اور لندن کے درمیان تیزی سے بگڑتے تعلقات کے دوران سامنے آیا ہے۔
روس کے سرکاری میڈیا ادارے ’آر ٹی‘ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ماریا زاخارووا نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ روس پر یوکرینی حملوں میں برطانوی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں ماسکو یوکرین اور دنیا میں کہیں بھی موجود برطانوی فوجی اڈوں پر حملہ کر سکتا ہے۔
روس کی جانب سے یہ بیان اییسے وقت میں سامنا آیا ہے جب یوکرینی فورسز کی جانب سے روس کے زیرِ قبضہ علاقے ’ڈونیٹسک‘ پر حملوں میں برطانوی ساختہ میزائل ’اسٹورم شیڈو میزائل کے استعمال کی خبریں سامنے آئیں تھیں۔ اس حملے میں کم از کم 8 شہری زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ روسی شہریوں پر حملوں کے ذمہ داروں کو سزا ضرور ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے شریکِ جرم اور اکسانے والوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
روسی ترجمان نے برطانیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ طویل عرصے سے روس کو نام نہاد ’اسٹریٹجک شکست‘ دینے کے مقصد پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی حکومت کے دشمنانہ اقدامات اور ان کے تباہ کن نتائج پر غور کریں۔
واضح رہے کہ برطانیہ نے حال ہی میں یوکرین کو خفیہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی منظوری دی تھی، جس کی مدد سے یوکرین میں ’اسٹورم شیڈو‘ نامی کروز میزائل مقامی طور پر تیار کیے جا سکیں گے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے برطانیہ کو یوکرینی حکومت کے ساتھ جنگ میں شریک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی افواج یوکرین میں میزائلوں اور دیگر فوجی سازوسامان کی تیاری سے متعلق مقامات کے بارے میں معلومات جمع کر رہی ہیں تاکہ انہیں تباہ کیا جا سکے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ماسکو کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ روس کے خلاف حملوں میں برطانوی میزائل فورسز کی براہِ راست شمولیت کو جنگ میں شرکت تصور کرے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
