پمز کے چلڈرن نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے پر اسپتال انتظامیہ نے اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی۔
انتظامیہ کے مطابق صبح 6 بج کر 38 منٹ پر اسپارک سے بھڑکنے والی آگ نے آکسیجن پوائنٹس کے باعث چند ہی سیکنڈز میں شدت اختیار کرلی۔ 6 بج کر 39 منٹ پر زوردار دھماکا، چھت کی سیلنگ گر گئی۔
رپورٹ کے مطابق نرسری میں موجود 2 ڈاکٹرز اور 2 نرسز نے فوری ریسکیو شروع کیا، پمز نرسری سے ایک نومولود، ملحقہ کمرے سے 4 بچے ریسکیو کیے گئے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے 35 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے، تمام ایمرجنسی راستے مکمل طور پر کھلے اور فعال تھے۔
پمز انتظامیہ کے مطابق طبی اور سیکیورٹی عملے نے جان رسک میں ڈال کر بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کی، امدادی کارروائی کے دوران تین ماؤں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، طبی عملے نے چند ہی منٹوں میں اسی منزل پر واقع گائنی وارڈ کے 73 مریضوں کو بھی بحفاظت نکال لیا۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف فورمز پر تحقیقات جاری، حتمی رپورٹ کا انتظار ہے، وجوہات اور ذمہ دار عناصر کا تعین تحقیقات کی روشنی میں کیا جائے گا۔
