عراقی صحافی منتظر الزیدی نے کہا ہے کہ اگر انہیں دوبارہ موقع ملا تو وہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر جوتے پھینکنے کا عمل پھر دہرائیں گے۔
14 دسمبر 2008 کو بغداد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 28 سالہ عراقی صحافی منتظر الزیدی نے اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر یکے بعد دیگرے اپنے دونوں جوتے پھینک دیے تھے۔
پہلا جوتا پھینکتے ہوئے انہوں نے چیخ کر کہا تھا کہ ’یہ عراقی عوام کی طرف سے الوداعی بوسہ ہے، جبکہ دوسرا جوتا پھینکتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ عراق میں بیوہ ہونے والی خواتین، یتیموں اور مارے جانے والے تمام افراد کے لیے ہے
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب بش اپنی صدارت کے اختتام کے قریب تھے۔ 2003 میں امریکا کی قیادت میں اتحادی افواج نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر عراق پر حملہ کیا تھا۔
امریکی انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ صدام حسین بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار اور چھپا رہے تھے، تاہم ایسے ہتھیاروں کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
عراق پر حملے اور قبضے کے نتیجے میں لاکھوں عراقی اور ہزاروں امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ جنگ پر امریکا کے اخراجات کا تخمینہ 815 ارب ڈالر لگایا گیا۔
منتظر الزیدی نے 18 سال بعد اپنے اس اقدام پر کوئی پچھتاوا نہ ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔
اس واقعے کے بعد الزیدی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے مطابق دورانِ حراست انہیں تین روز تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تین ماہ تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، جبکہ انہیں 3 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی
