چین کا نیا بحری راستہ، کیا سوئز و خلیجی بحری راستوں کا متبادل ہو گا؟ تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

چین کا نیا بحری راستہ، کیا سوئز و خلیجی بحری راستوں کا متبادل ہو گا؟

چین کا نیا بحری راستہ، کیا سوئز و خلیجی بحری راستوں کا متبادل ہو گا؟

چین کا نیا بحری راستہ، کیا سوئز و خلیجی بحری راستوں کا متبادل ہو گا؟

چین نے یورپ تک تجارت کے لیے ایک نئے بحری راستے کا اعلان کیا ہے جو قطبِ شمالی (Arctic Ocean) سے گزرتا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ یہ نیا راستہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث متاثر ہونے والے اہم بحری راستوں کے متبادل کے طور پر کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

چین کی بحری کمپنی سی لیجنڈ نے اس نئے راستے کو ’آئس سِلک روڈ‘ (Ice Silk Road) کا نام دیا ہے۔

یہ راستہ چین کے مشرقی ساحلی شہر ننگبو سے شروع ہو کر روس کے شمالی بحری راستے سے قطبِ شمالی کے قریب سے گزرتا ہے اور شمالی سمندر کے ذریعے برطانیہ کے مشرقی ساحل پر واقع فیلکس اسٹو بندرگاہ تک پہنچتا ہے

کمپنی نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس راستے کا آزمائشی سفر کیا تھا جو تقریباً 20 دن میں مکمل ہوا تھا، اس کے مقابلے میں سوئز نہر کے راستے چین سے یورپ پہنچنے میں تقریباً 40 دن جبکہ جنوبی افریقا کے گرد ’کیپ آف گُڈ ہوپ‘ کے راستے تقریباً 50 دن لگتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق یہ راستہ خاص طور پر ایسی حساس اور وقت کی پابند اشیاء کے لیے موزوں ہو سکتا ہے جن میں لیتھیئم آئن بیٹریاں اور شمسی توانائی کے آلات شامل ہیں۔

عرب میڈیا کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں ماہرین نے بتایا ہے کہ قطبی راستہ سفر کا وقت نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے تاہم فی الحال اسے سوئز نہر کا مکمل متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث قطبِ شمالی کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے جس سے نئے بحری راستے کھل رہے ہیں۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کی ایک تحقیق کے مطابق 2024ء اور 2025ء کے درمیان موسمِ سرما میں قطبی سمندری برف کی حد میں 5.8 فیصد کمی ہوئی جو اب تک کی سب سے بڑی کمی قرار دی گئی ہے۔

تاہم سردیوں میں شدید برف کے باعث یہ راستہ مکمل طور پر قابلِ استعمال نہیں رہتا۔

ماہرین کے مطابق فی الحال یہ صرف نسبتاً گرم موسم میں ایک اضافی بحری راستے کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔

چین کا نیا راستہ روس کے زیرِ انتظام شمالی بحری راستے سے گزرتا ہے، اس راستے پر سفر کے لیے روس کی شمالی بحری راستہ انتظامیہ اجازت جاری کرتی ہے جو روسی سرکاری جوہری ادارے روس ایٹم کے تحت کام کرتی ہے۔

تجارتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال صرف 23 کنٹینر بردار بحری جہاز شمالی بحری راستے سے گزرے جبکہ 2024ء میں یہ تعداد 15 تھی۔

رپورٹ میں شامل کیے گئے تجزیے کے مطابق روس کے کنٹرول کے باعث چین اس راستے کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھنے والے چند اہم ممالک میں شامل ہے تاہم روس سے جڑے تجارتی اور پابندیوں کے خطرات دیگر ممالک کے لیے اس راستے کو سیاسی طور پر حساس بنا سکتے ہیں۔

چین نے 2017ء میں روس کے ساتھ مل کر شمالی بحری راستے کو ترقی دینے اور استعمال کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم 2022ء میں روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بیجنگ کو روسی تجارتی راستوں تک زیادہ رسائی حاصل ہوئی۔

تجزیہ کاروں کی آراء کے مطابق اگر چین شمالی بحری راستے کو بحرِ احمر اور سوئز نہر کے مؤثر متبادل کے طور پر ترقی دینے میں کامیاب ہو گیا تو اس سے چینی تجارت اور بحری کمپنیوں کو نمایاں اقتصادی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ چین قطبی خطے میں اپنی تجارتی اور اسٹریٹجک موجودگی بھی بڑھا سکتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی بحری راستہ مستقبل قریب میں سوئز نہر کا عالمی متبادل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس کی بڑی وجوہات موسمی انحصار، برف، زیادہ اخراجات، ماحولیاتی خدشات اور قابلِ اعتماد آمد و رفت سے متعلق مسائل ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث قطبِ شمالی میں برف پگھلنے سے ناصرف قدرتی وسائل تک رسائی آسان ہو رہی ہے بلکہ نئے بحری راستے بھی کھل رہے ہیں۔

چین، روس، امریکا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک قطبی خطے کے قدرتی وسائل اور تجارتی راستوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، چین کے لیے یہ راستہ ایشیاء اور یورپ کے درمیان تجارت میں آبنائے ملاکا اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم بحری راستوں پر انحصار کم کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

کینیڈا کے قطبی علاقے سے گزرنے والے شمال مغربی راستے کے استعمال میں بھی مستقبل میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات گزرتی ہیں جبکہ باب المندب بھی عالمی تیل تجارت کے 10 فیصد سے زیادہ حصے کی ترسیل کا راستہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور کشیدگی کے باعث ان راستوں پر جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

باب المندب میں حوثی حملوں کے خطرے کے باعث متعدد بحری کمپنیاں اس راستے سے گریز کر رہی ہیں جس سے سوئز نہر کے ذریعے ایشیاء اور یورپ کے درمیان تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کے درمیان اس حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا قطبی راستہ عالمی تجارت میں بڑی جغرافیائی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے جبکہ دیگر ماہرین اسے صرف ایک اضافی اور متبادل راستہ قرار دیتے ہیں۔

سنگاپور کے ماہر ڈیلن لو کے مطابق چین کا نیا راستہ مکمل متبادل کے بجائے خطرات سے بچاؤ کا ایک ذریعہ ہے کیونکہ اس میں روایتی بحری راستوں جیسی پیش گوئی، تسلسل اور قابلِ اعتماد آمد و رفت موجود نہیں۔

دوسری جانب ماہرین کے مطابق قطبی راستے پر چین اور روس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی توجہ ضرور حاصل کریں گی، قطبِ شمالی میں روس، چین، امریکا اور یورپی ممالک کے مفادات پہلے ہی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

قطبی کونسل کے 8 رکن ممالک میں سے 7 نیٹو کے رکن ہیں جبکہ فروری 2026ء میں نیٹو نے روس اور چین سے لاحق ممکنہ خطرات کے پیشِِ نظر ’آرکٹک سینٹری‘ کے نام سے ایک فوجی مشن بھی شروع کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یورپ کو ایشیاء سے تجارت کے لیے مختصر راستے کا فائدہ ہو سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اسے روس کے زیرِ کنٹرول بحری راہداری پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین کا نیا ’آئس سلک روڈ‘ سوئز نہر یا مشرقِ وسطیٰ کے اہم بحری راستوں کو فوری طور پر ختم نہیں کر سکتا لیکن یہ عالمی تجارت کے لیے ایک اضافی راستہ ضرور بن سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے قطبِ شمالی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی مقابلے کا ایک اہم میدان بننے کا بھی امکان ہے۔

Exit mobile version