شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی

شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی

شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی

شامی عدالت نے شام کے سابق صدر بشار الاسد کو انسانیت کیخلاف جرائم میں سزائے موت سنا دی۔

خبر ایجنسی کے مطابق شام کے معزول صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی۔ بشار الاسد پر شام کی 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات تھے.

عدالت کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کو پیشگی منصوبہ بندی اور جان بوجھ کر قتل کے الزامات میں سزائے موت سنائی گئی۔

عدالت نے بشارالاسد دور کے سکیورٹی عہدیدار اور بشار الاسد کے کزن عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی، سزائے موت سنائے جانے کے وقت عاطف نجیب کمرہ عدالت میں موجود تھے ، انہوں نے ملزمان کا مخصوص لباس بھی پہن رکھا تھا۔

عاطف نجیب شامی فوج میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے ، اسد دور میں 2011 میں وہ شام کے صوبے دارا کے پولیٹیکل سکیورٹی برانچ کے سربراہ تھے، ان پر دارا میں کریک ڈاؤن کرنے کا الزام ہے جو بعد میں خانہ جنگی کی وجہ بنا۔

واضح رہے کہ 8 دسمبر 2024ء کو شام کے باغیوں نے دمشق پر قبضہ اور صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد بشارالاسد اور ان کے بھائی روس فرار ہو گئے تھے۔ جبکہ نجیب کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ شام میں اسد خاندان کے سربراہ حافظ الاسد نے 1971ء سے 2000ء تک حکومت کی اور پھر بشار الاسد نے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد جولائی 2000ء سے اقتدار سنبھالا ہوا تھا۔

Exit mobile version