خواتین کا رضاکارانہ اسلام قبول،باپ سمیت کوئی مداخلت نہیں کر سکتا، بھارتی ہائیکورٹ نے حتمی فیصلہ سنادیا تازہ ترین Roze News
تازہ ترین دنیا

خواتین کا رضاکارانہ اسلام قبول،باپ سمیت کوئی مداخلت نہیں کر سکتا، بھارتی ہائیکورٹ نے حتمی فیصلہ سنادیا

خواتین کا رضاکارانہ اسلام قبول،باپ سمیت کوئی مداخلت نہیں کر سکتا، بھارتی ہائیکورٹ نے حتمی فیصلہ سنادیا

خواتین کا رضاکارانہ اسلام قبول،باپ سمیت کوئی مداخلت نہیں کر سکتا، بھارتی ہائیکورٹ نے حتمی فیصلہ سنادیا

بھارت کے الہ آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ کوئی بھی خواتین کے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کرنے اور اپنی پسند کے شخص سے شادی
کرنے کے فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتا،چاہے اس رکاوٹ میں ان کا باپ بھی شامل ہو۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی خبر کے مطابق الہ آباد ہائیکورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ اگر خواتین رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کریں اور اپنی پسند کے شخص سے شادی کریں تو کوئی بھی، بشمول انکا باپ، اس فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتا۔عدالت30جولائی کو 20 سالہ اور 35 سالہ دو بہنوں کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔درخواست گزاروں کے وکیل نے جسٹس سندیپ جین کو بتایا کہ انھوں نے ہندومت سے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کیا ہے اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو انکا بنیادی حق ہے۔

الہ آباد ہائیکورٹ کے جسٹس جین نے اتر پردیش پولیس اور دونوں بہنوں کے والد کو حکم دیا کہ وہ انہیں6 اگست کو عدالت میں پیش کریں۔یہ حکم اس وقت دیا گیا جب دونوں بہنوں کے وکیل نے عدالت میں الزام لگایا کہ ان کے والد نے مئی2025 میں آگرہ میں پولیس شکایت درج کرائی تھی تاکہ انہیں اپنی پسند کےمطابق عمل کرنے سے روک سکیں۔اس شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیاہ سنہیتا کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جس میں اغوا، اٹھا کرلے جانے یا عورت کو شادی پر مجبور کرنے کے لئے اکسانے کی سزا کا ذکر ہے۔ درخواست گزاروں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں پولیس کی مدد سے غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا جا رہا ہے۔ تاہم ان کے وکیل نے عدالت کو بتایاچونکہ بہنوں نے رضاکارانہ طور پر مذہب تبدیل کیا تھا اور جبر یا دھوکہ دہی کا کوئی ثبوت نہیں تھا، اس لئےاتر پردیش امتناع غیر قانونی مذہب تبدیلی ایکٹ اس معاملے میں نافذ نہیں ہوتا۔

جس پر عدالت نے کہا’’اگر یہ دعوے بالآخر درست پائے جاتے ہیں تو مدعا علیہ کے والد یا کسی دوسرے شخص کی جانب سے ایسی ذاتی پسندپر عمل کرنے میں کوئی مداخلت انکے آئینی طور پر محفوظ حقوق یعنی وقار، رازداری، ذاتی آزادی اور فیصلہ سازی کی خودمختاری میں ناجائز دخل اندازی کے مترادف ہوگی ‘‘۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے مزید کہا کہ اگر خواتین6؍ اگست کو عدالت میں پیش نہ کی گئیں تو پولیس کو ذاتی حلفیہ بیانات جمع کروانے ہوں گے جن میں ان کی غیر حاضری کی وجوہات بیان کی جائیں۔حلفیہ بیان میں پولیس کی طرف سے خواتین کو پیش کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی شامل ہونی چاہئیں۔

Exit mobile version