مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے سن لی نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی فوجی پالیسیوں نے پورے خطے کو خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
چینی نمائندے کے مطابق امریکہ بین الاقوامی قانونی اجازت کے بغیر فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جس سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی استحکام بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کے حل کے بجائے انہیں مزید بڑھاوا دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن، بحیرۂ احمر اور غزہ میں جاری بحران کے پس منظر میں بھی امریکی پالیسیوں کا اہم کردار ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے مائیک والٹز نے چین کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران اور دیگر مسلح گروہوں کی معاونت کر رہا ہے، جو خطے میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی رسد اور بین الاقوامی امن پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں عالمی طاقتوں نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا اور سفارتی مذاکرات کو ترجیح نہ دی تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ چین سیاسی اور سفارتی حل پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکہ اپنی موجودہ پالیسی پر قائم ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال بدستور تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔
