پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے بعد سولر پلیٹس اور بیٹریوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے سولر سسٹم لگوانے کے خواہشمند صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرول سستا ہوتے ہی سولر مارکیٹ میں بھی بڑی خوشخبری، پلیٹس اور بیٹریوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے اثرات ملک بھر کی مختلف مارکیٹوں میں نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں سولر پلیٹس اور بیٹریوں کی قیمتوں میں قابلِ ذکر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ کمی سولر سسٹم لگوانے کے خواہشمند صارفین کے لیے ایک بڑی خوشخبری ثابت ہو سکتی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سولر پلیٹس کی قیمتوں میں 5 ہزار سے 10 ہزار روپے تک کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید کمی کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی سے نقل و حمل اور درآمدی اخراجات کم ہوتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر سولر مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے
سولر مارکیٹ سے وابستہ کاروباری افراد کے مطابق پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی صورت میں سولر پلیٹس، انورٹرز اور بیٹریوں کی ترسیل اور درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے، تاہم حالیہ کمی کے بعد مارکیٹ میں قیمتیں نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب بیٹریوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف اقسام کی بیٹریوں کی قیمتوں میں 27 ہزار سے 38 ہزار روپے تک اضافہ ہوا تھا، تاہم اب پیداواری اور ترسیلی اخراجات کم ہونے کے باعث مختلف کمپنیوں کی گاڑیوں اور یو پی ایس بیٹریوں کی قیمتوں میں 5 ہزار روپے تک کمی کی جا چکی ہے۔
سولر سسٹمز میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کی قیمتوں میں کمی سے گھریلو صارفین کے لیے متبادل توانائی کے منصوبوں کی لاگت کم ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں مزید افراد سولر توانائی کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔
توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور بجلی کے بھاری بلوں کے باعث ملک بھر میں سولر سسٹمز کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان برقرار رہا تو متوسط طبقے کے لیے بھی سولر سسٹم لگوانا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔
ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مڈل کلاس طبقے کے لیے خصوصی سولر پلان متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہری اپنے موجودہ ماہانہ بجلی کے بل کے برابر قسط ادا کرکے سولر سسٹم حاصل کر سکیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اگر کسی صارف کا ماہانہ بجلی کا بل 25 ہزار روپے ہے تو وہ تقریباً اسی رقم کے مساوی ماہانہ قسط ادا کرے گا، اور چند برسوں میں مکمل ادائیگی کے بعد بجلی کے بھاری بلوں سے مستقل نجات حاصل کر سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور آسان اقساط کی اسکیمیں ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور عوامی ریلیف کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔
