سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن اور تکنیکی مذاکرات نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں مختلف ممالک کی جانب سے اہم بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
چین کے صدر نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کو کبھی بھی خود کو اکیلا نہیں سمجھنا چاہیے، اور ان کا مؤقف ہے کہ چین ایران کے ساتھ مستقل تعاون اور تجارت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایران کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے”۔
ان مذاکرات کے دوران یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بات چیت کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا، اعتماد سازی کو فروغ دینا اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی ایک بار پھر عالمی سطح پر سراہا گیا ہے، جہاں اسے ایک متوازن اور ذمہ دار ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ بڑی طاقتوں کے بیانات نے صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
