پاکستان سمیت شمالی نصف کرے میں آج 21 جون کو سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق آج دن کا دورانیہ تقریباً 13 گھنٹے 41 منٹ جبکہ رات 10 گھنٹے 19 منٹ پر مشتمل ہوگی، جس کے بعد دن بتدریج چھوٹے ہونا شروع ہو جائیں گے۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق 21 جون کو “سمر سولسٹس” یا خطِ سرطان کا دن کہا جاتا ہے، جو شمالی نصف کرے میں موسم گرما کے باقاعدہ آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس دن سورج کی روشنی کا دورانیہ سال بھر میں سب سے زیادہ ہوتا ہے جبکہ رات سب سے مختصر ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمر سولسٹس اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب زمین کا شمالی قطب سورج کی جانب زیادہ جھکا ہوا ہوتا ہے اور سورج خط استوا سے اپنی شمالی ترین پوزیشن پر نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی نصف کرے کے ممالک میں دن طویل اور رات مختصر ہو جاتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سال کا طویل ترین دن ہر سال ایک ہی تاریخ کو نہیں آتا۔ بعض برسوں میں یہ 21 جون جبکہ بعض اوقات 22 جون کو بھی ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ رواں سال 21 جون کو یہ فلکیاتی واقعہ رونما ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق 22 جون سے دن کے دورانیے میں بتدریج کمی آنا شروع ہو جائے گی اور دسمبر کے تیسرے عشرے میں شمالی نصف کرے میں سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوگی، جسے “ونٹر سولسٹس” کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں آج مختلف شہروں میں دن کا دورانیہ 14 سے 15 گھنٹوں کے درمیان رہے گا، جبکہ دنیا میں سب سے طویل دن امریکی ریاست الاسکا کے بعض علاقوں میں ہوگا جہاں سورج کی روشنی 21 گھنٹوں سے بھی زیادہ وقت تک برقرار رہے گی۔
دوسری جانب جنوبی نصف کرے میں آج صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوگی اور موسم سرما کا باقاعدہ آغاز تصور کیا جائے گا۔ براعظم انٹارکٹیکا کے قطب جنوبی میں اس وقت مسلسل 24 گھنٹے تاریکی چھائی ہوئی ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں سمر سولسٹس کے موقع پر خصوصی تقریبات اور روایات بھی منائی جاتی ہیں۔ سویڈن میں اسے “مڈ سمر” کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں اس موقع پر میلوں، ثقافتی تقریبات اور روایتی رقص کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح Stonehenge میں بھی ہزاروں افراد طلوعِ آفتاب کا نظارہ کرنے اور اس تاریخی موقع کو منانے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
ماہرین فلکیات نے ایک عام غلط فہمی کی بھی وضاحت کی ہے کہ موسم گرما میں دن طویل ہونے کا مطلب زمین کا سورج کے قریب ہونا نہیں ہے۔ درحقیقت اس عرصے میں زمین سورج سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہوتی ہے، جبکہ موسم سرما میں زمین سورج کے زیادہ قریب آتی ہے۔ گرمی کی شدت اور دن کے دورانیے میں اضافے کی اصل وجہ زمین کے محور کا جھکاؤ ہے، نہ کہ سورج سے فاصلے میں تبدیلی۔
ماہرین کے مطابق سمر سولسٹس ایک اہم فلکیاتی واقعہ ہے جو نہ صرف موسمی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی کئی تہذیبوں اور ثقافتوں میں تاریخی اور مذہبی اہمیت بھی رکھتا ہے۔
