امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر جہاں عالمی سطح پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ بیان نے صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
پیوٹن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس پہلے بھی ایران کے ساتھ تھا، آج بھی ایران کے ساتھ ہے اور آئندہ بھی ایران کے ساتھ رہے گا۔ ان کے مطابق روس اور ایران کے درمیان مضبوط اور دوستانہ تعلقات موجود ہیں۔
روسی صدر نے مزید واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہر قسم کا تعاون جاری رہے گا، جس میں تجارت بھی شامل ہے۔ پیوٹن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ روس کو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات میں کسی بھی ملک سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
ان بیانات کو عالمی مبصرین امریکہ ایران معاہدے کے بعد ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دے رہے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ اور عالمی طاقتوں کے درمیان نئی سفارتی صف بندی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
