وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں بے پناہ کرپشن ہے۔
گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بی آئی ایس پی میں غریب لوگوں کی کچھ مدد کی جاتی ہے لیکن اس میں کچھ اعتراضات ہیں، پروگرام میں بے پناہ کرپشن ہے اور پنجاب کی حد تک ڈیٹا ٹھیک نہیں ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ لوگوں کو بھکاری بنانے والی بات ہے، 3 ماہ بعد 13 سے 17 ہزار دیں تو اس کا کیا فائدہ؟ بی آئی ایس پی کے دوران غربت بڑھی ہے ختم تو نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی کی طرح سوشل ویلفیئر جیسے اور بھی پروگرام ہیں، صوبوں کو اگر 58 فیصد حصہ لینا ہے تو سوشل ویلفیئر کی ذمہ داری بھی اٹھانی پڑے گی، اس پر جلد یا بدیر اتفاق رائے ہو کر رہے گا۔
بجٹ کے حوالے سے مشیر وزیر اعظم نے کہا کہ بجٹ میں ہر کسی کو اپنے حلقے، ضلع اور صوبے کی فکر ہوتی ہے، فنڈز کا مطالبہ پارلیمانی سسٹم کی روایت ہے، ہر سال خسارہ بڑھ رہا ہے اور شائد آئندہ آنے والے سالوں میں بھی قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے موجودہ دفاعی حالات میں پاکستان اپنی ساکھ کے مطابق کھڑا ہے، دفاعی بجٹ میں موجودہ حالات میں اضافہ ناگزیر ہے، 18ویں ترمیم بڑی اچھی ہے لیکن جہاں صوبوں کو اختیار ہے وہاں ذمہ داری بھی ہے۔
