اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سینیٹ کے ملازم حمزہ خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کے سابق ایس پی عارف حسین شاہ کو سزائے موت سنا دی ہے۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے اس ہائی پروفائل کیس کی سماعت مکمل ہونے پر یہ حکم جاری کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مجرم عارف حسین شاہ پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے مقدمے میں نامزد دیگر دو شریک مجرمان صابر شاہ اور ثقلین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے اور ان دونوں کو 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق ایس پی عارف حسین شاہ نے سینیٹ کے ملازم حمزہ خان کو اغوا کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ مقتول کی لاش بعد میں مجرم عارف شاہ کے آبائی علاقے مانسہرہ میں واقع گھر سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
سینیٹ کے 30 سالہ ملازم حمزہ خان کے اغوا اور قتل کا یہ لرزہ خیز واقعہ مارچ 2025 میں پیش آیا تھا۔ مقتول کا تعلق بنیادی طور پر نتھیا گلی سے تھا لیکن وہ اسلام آباد میں مقیم تھے، جہاں وہ 15 مارچ 2025 کو سابق ایس پی عارف حسین شاہ کے آبائی گاؤں کھاکی (مانسہرہ) جانے کے بعد اچانک لاپتا ہوگئے تھے۔
تحقیقات کے مطابق حمزہ خان کو تقریباً 80 لاکھ روپے کے ایک دیرینہ مالی تنازع کے حل کے بہانے مانسہرہ بلایا گیا تھا۔ وہاں پہنچنے پر سابق پولیس افسر عارف حسین شاہ، ان کے بیٹے واصف شاہ اور دیگر شریک ملزمان نے انہیں بے دردی سے قتل کر کے لاش کو ایک پہاڑی علاقے میں خفیہ طور پر دفن کردیا تھا۔
ملزمان نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے حمزہ خان کے موبائل فونز اسلام آباد کے جی-ٹین (G-10) میٹرو اسٹیشن کے قریب پھینک دیے تھے، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ واپس وفاقی دارالحکومت پہنچ چکے تھے۔ تاہم اسلام آباد پولیس نے سراغ رساں کتوں اور جدید فرانزک تکنیک کی مدد سے تفتیش کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا، جن کے اعترافِ جرم پر لاش برآمد ہوئی۔
رپورٹ میں یہ اہم انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ سابق ایس پی عارف حسین شاہ اپنے سروس کے دور میں، جب وہ ایس پی ٹریفک تعینات تھے، مانسہرہ کی ہی ایک خاتون پولیس اہلکار کے قتل کے کیس میں بھی نامزد ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں پولیس سروس سے قبل از وقت جبری ریٹائر کر دیا گیا تھا، لیکن وہ اس کے بعد بھی مبینہ طور پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے۔
پولیس نے طویل تفتیش اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کر کے چالان عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں اب انہیں کڑی سزائیں سنا دی گئی ہیں۔
