ملک میں نئے کرنسی نوٹوں کی چھپائی اور اجرا کے عمل میں تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن حکومت کو منظوری کیلئے بھجوائے گئے تھے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے ان ڈیزائنز میں مزید بہتری اور بعض تبدیلیوں کی ہدایات جاری کی گئیں جس کے بعد یہ ڈیزائن دوبارہ اسٹیٹ بینک کو واپس بھیج دیے گئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا مرکزی بینک اس وقت نئے ڈیزائنز پر دوبارہ کام کر رہا ہے تاکہ انہیں جدید تقاضوں اور حفاظتی معیار کے مطابق مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹ صرف خوبصورت ظاہری شکل ہی نہیں رکھتے ہوں گے بلکہ ان میں جدید حفاظتی خصوصیات بھی شامل کی جائیں گی تاکہ جعلی نوٹوں کی روک تھام میں مدد مل سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے نوٹوں کے اجرا کا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا اس مقصد کیلئے تمام ڈیزائنز کو دوبارہ جانچ کے مرحلے سے گزارا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی خامی یا اعتراض کی گنجائش باقی نہ رہے۔
نئے کرنسی نوٹوں کی تبدیلی ایک حساس اور طویل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں ڈیزائن، طباعت، حفاظتی فیچرز اور عوامی اعتماد جیسے کئی عوامل شامل ہوتے ہیں اسی وجہ سے حکومت اور اسٹیٹ بینک اس معاملے میں محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔