بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی امداد میں اضافے کی تجویز سامنے آ گئی ہے، جہاں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے کفالت پروگرام کی رقم میں 5 ہزار 500 روپے اضافے کی سفارش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے امدادی رقم بڑھا کر 20 ہزار روپے کرنے کی تجویز بھی دی ہے، وفد کو کفالت پروگرام میں رجسٹرڈ خاندانوں کے ڈیٹا پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پروگرام کی رقم میں اضافے کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات کا اگلا مرحلہ آج ہوگا، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان تین اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے برقرار رکھنے پر زور دیا ہے، جبکہ ایف بی آر اس ہدف میں کمی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
مذاکرات میں سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی مختلف سفارشات بھی زیر غور آئیں گی، رہائشی جائیدادوں کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکس پالیسی کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ بعض جائیدادوں کو حاصل سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز پر بھی بات ہوگی۔
اس کے علاوہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ کا دائرہ کار مزید بڑھانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے
