بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو معافیاں مانگتی ہوں’، عشرت فاطمہ نے زندگی کا دکھ بھرا لمحہ سنادیا تازہ ترین Roze News
تازہ ترین

بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو معافیاں مانگتی ہوں’، عشرت فاطمہ نے زندگی کا دکھ بھرا لمحہ سنادیا

بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو معافیاں مانگتی ہوں'، عشرت فاطمہ نے زندگی کا دکھ بھرا لمحہ سنادیا

بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو معافیاں مانگتی ہوں'، عشرت فاطمہ نے زندگی کا دکھ بھرا لمحہ سنادیا

پاکستان کی سینئر نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے اپنی زندگی کے دکھ بھرے لمحے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو اس سے معافیاں ہی مانگتی ہوں۔ 

کچھ روز قبل عشرت فاطمہ نے توثیق حیدر کو انٹرویو دیا جس میں ان سے ان کی نجی زندگی سے متعلق سوال کیا گیا۔

عشرت فاطمہ نے کہا کہ بچپن میں میں اللہ سے اپنی رنگت کے لیے احتجاج کرتی تھی اور روتی تھی کیونکہ مجھے یہ پسند نہیں تھی۔

توثیق حیدر نے سوال کیا تو کیا آج آپ کو اس رنگت پر فخر ہے؟ جس پر نیوز کاسٹر نے جواب دیا نہیں، فخر نہیں ہے کیونکہ فخر ایک بہت بڑی چیز ہے، ہاں لیکن شکر ادا کرتی ہوں۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ثاقب (شوہر) نے مجھے بہت حوصلہ دیا، میں اب کہیں بھی جاؤں یا کسی سے ملاقات کروں تو میں منہ دھونے کے بعد میک اپ کے نام پر لپ اسٹک اور کاجل لگالیتی ہوں۔

عشرت فاطمہ نے اپنی زندگی کے دکھ بھرے لمحے کے بارے میں بتایا کہ میری پہلی بیٹی کا انتقال ہوگیا تھا، جب اس کی پیدائش ہوئی تو میری بہن جو میرے ساتھ تھی، سب سے پہلے میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ اس کا رنگ کیسا ہے؟ یہ میرا پہلا سوال تھا اور وہ (بیٹی) نہیں رہی۔

نیوز کاسٹر نے کہا میں اب بھی جب قبرستان جاتی ہوں بیٹی کی قبر پر جاکر اس سے معافیاں ہی مانگتی ہوں کہ شاید میں تمہاری اچھی ماں نہیں تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے واپس لے لیا، لیکن ہمارے معاشرے میں اس قسم کی بہت چیزیں ہیں۔

دوران انٹرویو عشرت فاطمہ کا کہنا تھا یہ چیزیں نہیں ہونی چاہئیں، لوگ دوسروں کا دل دکھاتے ہیں، لوگ رنگت کے حوالے سے ہنستے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ اگلے بندے کو گرا کر آگے بڑھ جائیں، کوئی فرق نہیں پڑتا اسے چوٹ لگے، ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔

Exit mobile version