وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تاڑر کا کہنا ہے کہ فی الحال 28 ویں ترمیم کے آثار نظر نہیں آرہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پہلے پارلیمنٹ میں موجود اپنے اتحادیوں سے مشاورت کریں گے، اتحادیوں کی طرف سے سگنل موصول ہوگا تو پھر رہنمائی اور مشاورت ہوگی۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ہم مخلوط حکومت ہیں، آئینی ترمیم مشاورت کے بغیر کیسے کرسکتےہیں، اتفاق رائےکے بغیر آئینی ترمیم پر پراسیس نہیں ہوگا، ابھی کچھ واضح نہیں، ڈرافٹ بننے پر ترمیم کےخدوخال واضح ہوتےہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاق کو چلانےکےلیےکچھ مسائل درپیش ہیں، ایم کیوایم کے ساتھی کہتے ہیں کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے، جو تجویز وہ لائے وزیراعظم نےاس پراتفاق رائے پیدا کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی، وزیراعظم حکومت میں ہیں، صدر دوسری بڑی جماعت سے ہیں، صدر اور وزیراعظم بیٹھیں گے تو مشاورت آگے بڑھےگی۔
