مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید، صدر اور وزیر اعظم کا اظہار افسوس پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین

مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید، صدر اور وزیر اعظم کا اظہار افسوس

مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید، صدر اور وزیر اعظم کا اظہار افسوس

مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید، صدر اور وزیر اعظم کا اظہار افسوس

چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں معروف عالم دین، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ واقعے میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، جبکہ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق مولانا محمد ادریس دارالعلوم اتمانزئی میں دورہ حدیث کی تدریس کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔ انہیں فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

پولیس نے لاش اسپتال منتقل کر دی ہے جہاں بعد ازاں بڑی تعداد میں ان کے عقیدت مند اور طلبہ پہنچ گئے۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی شواہد سے واقعہ ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مولانا محمد ادریس کی نماز جنازہ آج 5 مئی 2026 کو سہ پہر 5:30 بجے ان کے آبائی گاؤں ترنگزئی، ضلع چارسدہ میں ادا کی جائے گی۔

ادھر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، جبکہ وزیر اعظم نے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ گورنر نے مولانا ادریس کی شہادت کو ملک کے لیے بڑا نقصان قرار دیا، جبکہ وزیر اعلیٰ نے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال لمحہ فکریہ ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

Exit mobile version