چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی بمباری اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں فضائی دفاعی نظام کے ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں، جس کے بعد خلیجی ممالک نے فوری طور پر دوبارہ اسلحہ حاصل کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات اب صرف امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرنے کے بجائے جنوبی کوریا کے میزائل ڈیفنس سسٹمز، یوکرین کے ڈرونز اور دیگر جدید ہتھیاروں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان خلیجی ممالک نے برطانیہ کی بعض دفاعی اسٹارٹ اپ کمپنیوں سے بھی رابطہ کیا ہے جو کم قیمت اور تیز رفتار ردعمل والے اینٹی ڈرون میزائل تیار کر رہی ہیں۔
خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کے جوابی حملوں اور کم قیمت والے ڈرونز کے بڑے پیمانے پر استعمال نے دفاعی حکمتِ عملی کو کمزور کر دیا ہے، جس کے باعث فوری طور پر نئے اور مؤثر دفاعی نظام کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی دفاعی صنعت پہلے ہی روس-یوکرین جنگ کے بعد شدید دباؤ میں ہے اور پیداوار طلب کے مطابق نہیں بڑھ سکی۔
سعودی عرب نے جاپان سے بھی رابطہ کیا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کی کمپنیوں سے M-SAM میزائل سسٹم کی جلد فراہمی پر بات چیت جاری ہے۔ یہ سسٹم ڈرونز، میزائل اور فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سے قبل متحدہ عرب امارات اسے استعمال کر چکا ہے۔
اسی طرح سعودی عرب اور قطر نے یوکرین کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے بھی کیے ہیں، جن میں ہتھیاروں کی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر بات چیت شامل ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق خلیجی ممالک نے انٹرسیپٹر ڈرونز اور الیکٹرانک وارفیئر آلات میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم یوکرین خود بھی جنگی حالات کے باعث اپنی پیداوار کو برقرار رکھنے میں مصروف ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کے پاس متعدد جدید اور مربوط فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، جبکہ سعودی حکام کے مطابق وہ امریکا کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ساتھ ہی دیگر شراکت داروں سے بھی دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی دفاعی صنعت بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ امریکا کی جانب سے خلیجی ممالک کو اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے تو کیے گئے ہیں، تاہم ان کی ترسیل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
