میلانیا پر جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات ، معاملہ کیا ہے؟شرمناک انکشاف نے تہلکہ مچا دیا پاکستان Roze News
پاکستان تازہ ترین دنیا

میلانیا پر جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات ، معاملہ کیا ہے؟شرمناک انکشاف نے تہلکہ مچا دیا

میلانیا پر جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات ، معاملہ کیا ہے؟شرمناک انکشاف نے تہلکہ مچا دیا

میلانیا پر جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات ، معاملہ کیا ہے؟شرمناک انکشاف نے تہلکہ مچا دیا

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے بدنام زمانہ فنانسر جیفری ایپسٹین سے کسی بھی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کردی۔

بین القوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق واشنگٹن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میلانیا ٹرمپ نے کہا اُن پر الزامات جھوٹ اور کردار کُشی ہیں۔ امریکی خاتون اول نے ایپسٹین اسکینڈل کے متاثرین کےلئے کانگریس سے کھلی سماعت کا مطالبہ بھی کردیا۔

انہوں نے کہا، ’’میرے اور بدنام جیفری ایپسٹین کے درمیان تعلقات سے متعلق جھوٹ کو آج ختم ہونا چاہیے۔ جو لوگ میرے بارے میں غلط بیانی کر رہے ہیں وہ اخلاقیات، عاجزی اور احترام سے عاری ہیں۔‘‘

میلانیا ٹرمپ نے اپنے بیان کے بعد میڈیا کے سوالات لینے سے گریز کیا، جس کے باعث مزید سوالات جنم لے رہے ہیں، خاص طور پر یہ کہ یہ بیان ایسے وقت میں کیوں دیا گیا جب ایپسٹین کا معاملہ پس منظر میں جا چکا تھا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ایک طویل عرصے سے جاری ایپسٹین تنازع سے بظاہر آگے نکل چکے تھے، جبکہ واشنگٹن کی سیاست کا مرکز حالیہ ایران جنگ بنی ہوئی ہے۔

میلانیا ٹرمپ کے اس بیان نے ایک بار پھر اس معاملے کو سیاسی منظرنامے میں واپس لا کھڑا کیا ہے، حالانکہ صدر ٹرمپ عوام اور میڈیا سے اس معاملے کو پیچھے چھوڑنے کی اپیل کر چکے تھے۔

اپنے بیان میں میلانیا ٹرمپ نے 2002 کی ایک ای میل کا حوالہ بھی دیا، جس میں مخاطب کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ای میل میں ’’ڈیئر جی!‘‘ سے آغاز اور ’’ لو میلانیا‘‘ پر اختتام ہوتا ہے، جبکہ اس میں ایک میگزین آرٹیکل کی تعریف کی گئی ہے جو ایپسٹین کے بارے میں تھا۔

اسی ماہ شائع ہونے والے ایک میگزین مضمون میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین کو “بہترین شخص” قرار دیا تھا۔

میلانیا ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ نہ تو ایپسٹین کی دوست تھیں اور نہ ہی اس کی قریبی ساتھی اور سابق گرل فرینڈ گھسلین میکسویل کی، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ نیویارک اور فلوریڈا میں ان کے سماجی حلقے کسی حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔

انہوں نے میکسویل کو بھیجی گئی اپنی ای میل کو “عام نوعیت کی خط و کتابت” قرار دیا اور کہا کہ اس کا کوئی خاص مطلب نہیں لیا جانا چاہیے۔

دستاویزات میں ایپسٹین کے گھر کی ایک تصویر بھی شامل ہے جس میں مختلف تصاویر کے ساتھ ایک دراز میں ڈونلڈ ٹرمپ، میلانیا ٹرمپ، ایپسٹین اور میکسویل کی مشترکہ تصویر موجود تھی۔

Exit mobile version