14 فارن ایکٹ کے تحت پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ میں افغان مہاجرین کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 2 ہزار افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق گرفتار افراد کو تینوں اضلاع کے مقامی مجسٹریٹ کی عدالتوں میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ کریک ڈاؤن 27 فروری سے شروع ہوا اور چار مارچ تک جاری رہا۔ چار مارچ کے بعد پولیس نے عید تک کریک ڈاؤن روکنے کا اعلان کیا۔
ذرائع کے مطابق پشاور میں تقریباً 1,600 افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا، جبکہ نوشہرہ اور چارسدہ میں تقریباً 400 افغان شہری گرفتار کیے گئے۔
پولیس اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ملک میں قانون کی بالادستی اور غیر قانونی مہاجرین کی شناخت کے لیے کی گئی، اور تمام گرفتار افراد کے قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔
