ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای طویل عرصے سے ایرانی سیاست اور مذہبی قیادت کا مرکزی چہرہ رہے ہیں۔ وہ 1989ء میں سپریم لیڈر بننے سے قبل 9 اکتوبر 1981ء سے 16 اگست 1989ء تک ایران کے صدر کے منصب پر فائز رہے۔
27 جون 1981ء کو ان پر ایک سنگین قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ وہ ایران۔عراق جنگ کی فرنٹ لائنز سے واپسی کے بعد ایک مسجد میں نماز ادا کرنے گئے جہاں نماز کے بعد وہ حاضرین کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص نے کاغذات کے ساتھ ایک ٹیپ ریکارڈر میز پر رکھا، جو کچھ ہی دیر بعد دھماکے سے پھٹ گیا۔
اس حملے میں ان کے دائیں بازو، آواز کے تاروں اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کئی ماہ کے علاج کے بعد وہ صحت یاب تو ہو گئے، تاہم ان کا دایاں بازو مستقل طور پر مفلوج ہو گیا۔ بعد ازاں وہ اکثر اپنا دایاں بازو چادر میں ڈھانپے رکھتے تھے۔
انہوں نے معذوری کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا اور بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھ لیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر دماغ اور زبان کام کر رہے ہوں تو انسان اپنا مشن جاری رکھ سکتا ہے۔ اسی عزم اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث وہ بعد ازاں ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کی اعلیٰ قیادت میں شامل ہوئے اور پھر سپریم لیڈر کے منصب تک پہنچے۔
