وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ روزے کی حالت میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس گیا اور سلام کیا پر انہوں نے جواب تک نہیں دیا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات ممکن نہیں ہو رہی تھی، اسی لیے انہوں نے اوپن کورٹ میں بات کرنے کی کوشش کی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں روسٹرم پر گئے اور چیف جسٹس کو سلام کیا تاہم انہیں سلام کا جواب بھی نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں بلکہ اپنا مؤقف پیش کرنا تھا، ان کے مطابق تحریک انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پرامن احتجاج کو اپنا حق سمجھتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کرانے کیلئے درخواست جمع کرائی گئی تاہم وہ درخواست ہی نہیں لگی۔
سہیل آفریدی نے زور دیا کہ وہ آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتے ہیں اور جمہوری اقدار کے تحت پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔
